Eid-ul-Fitr Holiday

Pakistan • March 22, 2026 • Sunday

78
Days
15
Hours
25
Mins
34
Secs
until Eid-ul-Fitr Holiday
Asia/Karachi timezone

Holiday Details

Holiday Name
Eid-ul-Fitr Holiday
Country
Pakistan
Date
March 22, 2026
Day of Week
Sunday
Status
78 days away
Weekend
Falls on weekend
About this Holiday
Eid-ul-Fitr Holiday is a public holiday in Pakistan

About Eid-ul-Fitr Holiday

Also known as: عید الفطر

پاکستان میں عید الفطر: خوشیوں اور برکات کا تہوار

عید الفطر پاکستان میں منایا جانے والا سب سے بڑا اور اہم ترین مذہبی تہوار ہے۔ یہ محض ایک دن کی چھٹی نہیں ہے بلکہ یہ صبر، شکر گزاری اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے اعتراف کا ایک عظیم الشان موقع ہے۔ پورے ایک ماہ کے روزوں (رمضان المبارک) کے بعد، جب مسلمان سورج نکلنے سے لے کر غروب ہونے تک کھانے پینے اور دیگر نفسانی خواہشات سے پرہیز کرتے ہیں، تو عید الفطر اللہ کی طرف سے ایک انعام کے طور پر آتی ہے۔ یہ دن اس بات کی علامت ہے کہ ایک مومن نے کامیابی کے ساتھ اپنے نفس پر قابو پایا اور تقویٰ کی مشق کی۔

پاکستان میں عید الفطر کی اہمیت سماجی اور ثقافتی لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے لوگ اپنے آبائی گھروں کو لوٹتے ہیں تاکہ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ خوشیاں بانٹ سکیں۔ گلیوں میں بچوں کی قہقہے، نئے کپڑوں کی مہک، اور گھروں سے آتی میٹھی سوئیوں کی خوشبو ایک ایسا سحر انگیز ماحول پیدا کرتی ہے جو سال کے کسی اور دن دیکھنے کو نہیں ملتا۔ یہ تہوار طبقاتی فرق کو مٹا کر امیر اور غریب کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کرتا ہے، جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو گلے لگا کر "عید مبارک" کہتا ہے۔

اس تہوار کا جوہر "فطرت" یعنی افطار کرنے میں چھپا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب روزہ رکھنا حرام قرار دیا گیا ہے تاکہ مسلمان مل جل کر اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا جشن منائیں۔ پاکستان کے طول و عرض میں، کراچی کے ساحلوں سے لے کر خیبر کے پہاڑوں تک، ہر شہر اور گاؤں میں عید کی تیاریاں ہفتوں پہلے شروع ہو جاتی ہیں۔ بازاروں میں رات بھر رونق رہتی ہے اور لوگ جوش و خروش سے عید کی خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں۔

عید الفطر 2026 کب ہے؟

پاکستان میں عید الفطر کا تعین قمری کیلنڈر (اسلامی کیلنڈر) کے مطابق چاند نظر آنے پر ہوتا ہے۔ سال 2026 میں عید الفطر کی متوقع تاریخ درج ذیل ہے:

تاریخ: March 22, 2026 دن: Sunday باقی دن: عید آنے میں اب صرف 78 دن باقی ہیں۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ اسلامی تہواروں کی تاریخیں چاند کی رویت (سائٹنگ) پر منحصر ہوتی ہیں۔ پاکستان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی چاند دیکھنے کا باقاعدہ اعلان کرتی ہے۔ اگرچہ فلکیاتی حساب کتاب کے مطابق March 22, 2026 کی تاریخ متوقع ہے، لیکن حتمی فیصلہ 29 رمضان المبارک کی شام کو کیا جاتا ہے۔ اگر چاند نظر آ جائے تو اگلے دن عید ہوتی ہے، ورنہ رمضان کے 30 روزے مکمل کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر عید کی تین روزہ سرکاری تعطیلات دی جاتی ہیں، جو کہ اس سال ممکنہ طور پر 20 مارچ سے 23 مارچ تک ہوں گی۔

عید الفطر کی تاریخ اور پس منظر

عید الفطر کی تاریخ اسلام کے ابتدائی دور سے جڑی ہوئی ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق، اس تہوار کا آغاز مدینہ منورہ میں ہجرت کے دوسرے سال (624 عیسوی) میں ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ سال میں دو دن کھیل کود اور جشن کے لیے مخصوص کیے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں: ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحیٰ۔

عید الفطر کا پس منظر غزوہ بدر کی فتح سے بھی جوڑا جاتا ہے، جو کہ مسلمانوں کی پہلی بڑی عسکری کامیابی تھی۔ تاہم، اس کا بنیادی مقصد رمضان کے روزوں کی تکمیل پر اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔ یہ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ خوشی منانے کا بہترین طریقہ وہ ہے جس میں اللہ کی بڑائی بیان کی جائے اور انسانیت کی خدمت کی جائے۔ پاکستان میں اس تاریخی اور مذہبی ورثے کو نہایت عقیدت کے ساتھ برقرار رکھا گیا ہے، جہاں نسل در نسل یہ روایات منتقل ہو رہی ہیں۔

پاکستان میں عید کی تیاریاں اور چاند رات

عید کی اصل رونق "چاند رات" سے شروع ہوتی ہے۔ جیسے ہی ریڈیو یا ٹیلی ویژن پر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان کرتے ہیں، پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ مساجد میں اعلان ہوتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کے لیے گھروں سے باہر نکل آتے ہیں۔

خواتین کی تیاریاں: چاند رات کو خواتین اور لڑکیوں کے لیے خاص اہمیت حاصل ہے۔ مہندی (Henna) کے بغیر عید ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ بیوٹی پارلرز اور بازاروں میں مہندی لگانے والوں کے پاس لمبی قطاریں ہوتی ہیں۔ لڑکیاں رنگ برنگی چوڑیاں خریدتی ہیں جو ان کے عید کے ملبوسات سے میل کھاتی ہوں۔

خریداری کا عروج: پاکستان کے بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی، اسلام آباد اور فیصل آباد میں بازار چاند رات کو پوری رات کھلے رہتے ہیں۔ لوگ جوتے، کپڑے اور دیگر اشیاء کی آخری لمحات کی خریداری کرتے ہیں۔ یہ رات معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے بھی بہت اہم ہوتی ہے کیونکہ اربوں روپے کا لین دین ہوتا ہے۔

عید کے دن کے معمولات اور مذہبی رسومات

عید الفطر کا دن ایک خاص نظم و ضبط اور روحانیت کا حامل ہوتا ہے۔

1. غسل اور نئے کپڑے: عید کے دن صبح سویرے اٹھنا، غسل کرنا اور نئے یا صاف ستھرے کپڑے پہننا سنت نبوی ہے۔ پاکستان میں مرد عام طور پر سفید یا رنگین کڑھائی والے 'شلوار قمیض' پہنتے ہیں، جبکہ خواتین بھاری کام والے جوڑے اور زیورات زیب تن کرتی ہیں۔ خوشبو (عطر) لگانا بھی اس دن کی ایک خاص روایت ہے۔

2. صدقہ فطر (زکوٰۃ الفطر): نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے۔ یہ ایک مخصوص رقم یا اناج کی مقدار ہوتی ہے جو گھر کے ہر فرد کی طرف سے غریبوں کو دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے نادار لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں اور ان کے گھروں میں بھی چولہا جل سکے۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد اسے مقامی مساجد یا فلاحی اداروں کے ذریعے مستحقین تک پہنچاتی ہے۔

3. نماز عید: عید کی نماز دن نکلنے کے تھوڑی دیر بعد بڑے اجتماعات میں ادا کی جاتی ہے۔ یہ نماز مساجد کے علاوہ کھلے میدانوں میں ادا کی جاتی ہے جنہیں "عید گاہ" کہا جاتا ہے۔ نماز کے بعد امام صاحب خطبہ دیتے ہیں جس میں اتحاد، بھائی چارے اور امن کا درس دیا جاتا ہے۔ نماز کے اختتام پر ہاتھ اٹھا کر ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

4. گلے ملنا اور مبارکباد: نماز کے بعد جو سب سے خوبصورت منظر دیکھنے کو ملتا ہے، وہ ایک دوسرے سے گلے ملنا ہے۔ لوگ اپنے تمام اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں اور "عید مبارک" کہتے ہیں۔ یہ عمل محبت اور یگانگت کو فروغ دیتا ہے۔

روایتی کھانے اور ضیافتیں

پاکستان میں عید الفطر کو "میٹھی عید" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دن میٹھے پکوانوں کی بہتات ہوتی ہے۔

شیر خورمہ: یہ عید کی سب سے مشہور ڈش ہے۔ دودھ، سوئیوں، کھجوروں اور خشک میوہ جات سے تیار کردہ یہ میٹھا ہر گھر میں بنتا ہے۔ نماز عید سے واپسی پر سب سے پہلے شیر خورمہ پیش کیا جاتا ہے۔ سوئیاں: باریک رنگین یا سادہ سوئیاں چینی یا گڑ کے ساتھ بنائی جاتی ہیں۔ نمکین پکوان: دوپہر اور رات کے کھانے میں بریانی، قورمہ، کڑاہی اور کباب جیسے لذیذ پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ خاندان کے تمام افراد دسترخوان پر جمع ہو کر ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

"عیدی" کی روایت: بچوں کی خوشی

عید الفطر بچوں کے لیے سب سے زیادہ دلچسپ ہوتی ہے، اور اس کی وجہ "عیدی" ہے۔ عیدی وہ رقم ہوتی ہے جو خاندان کے بڑے (والدین، دادا دادی، نانا نانی، چچا، ماموں وغیرہ) بچوں کو بطور تحفہ دیتے ہیں۔ عید کی نماز کے بعد بچے قطار بنا کر بڑوں سے عیدی مانگتے ہیں۔ یہ روایت بچوں میں بڑوں کے احترام اور بڑوں میں شفقت کے جذبے کو ابھارتی ہے۔ بچے اس رقم کو جمع کرتے ہیں اور پھر اپنی پسند کے کھلونے، جھولے یا کھانے پینے کی اشیاء پر خرچ کرتے ہیں۔

سماجی دورے اور میل ملاپ

عید کے تینوں دن ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پہلے دن عام طور پر قریبی رشتہ داروں کے گھر جایا جاتا ہے۔ دوسرے اور تیسرے دن دوستوں اور دور کے عزیزوں کی دعوتیں ہوتی ہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں عید کے میلے لگتے ہیں جہاں کشتی، کبڈی اور دیگر روایتی کھیل منعقد ہوتے ہیں۔ شہری علاقوں میں لوگ پارکوں، سینما گھروں اور تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔

سیاحوں اور غیر ملکیوں کے لیے معلومات

اگر آپ 2026 میں عید کے دوران پاکستان میں ہیں، تو چند باتیں آپ کے لیے مددگار ثابت ہوں گی:

  1. لباس: پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، اس لیے عید کے موقع پر مقامی ثقافت کا احترام کرتے ہوئے مناسب لباس (شلوار قمیض یا ایسا لباس جو کندھوں اور گھٹنوں کو ڈھانپے) پہننا بہتر ہے۔ خواتین کے لیے سر پر دوپٹہ رکھنا ایک مستحسن عمل سمجھا جاتا ہے۔
  2. کاروباری اوقات: عید کی تعطیلات کے دوران تمام سرکاری دفاتر، بینک، تعلیمی ادارے اور زیادہ تر نجی کمپنیاں بند رہتی ہیں۔ چھوٹے بازار اور دکانیں بھی عید کے پہلے اور دوسرے دن بند ہو سکتی ہیں، تاہم تیسرے دن سے زندگی معمول پر آنا شروع ہو جاتی ہے۔
  3. ٹرانسپورٹ: عید سے چند دن پہلے اور عید کے فوراً بعد پبلک ٹرانسپورٹ (بسیں، ٹرینیں اور جہاز) بہت زیادہ مصروف ہوتے ہیں کیونکہ لاکھوں لوگ سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو سفر کرنا ہے تو بکنگ پہلے سے کروا لیں۔
  4. کھانے پینے کے مقامات: عید کے پہلے دن زیادہ تر ریسٹورنٹس دوپہر تک بند رہتے ہیں، لیکن شام کو وہ عید کے خصوصی مینیو کے ساتھ کھل جاتے ہیں۔
  5. سیکورٹی: بڑے اجتماعات اور مساجد کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے پاس شناختی دستاویزات رکھیں اور ہجوم والی جگہوں پر احتیاط برتیں۔

عید الفطر بحیثیت سرکاری تعطیل

پاکستان میں عید الفطر ایک قومی تعطیل ہے۔ حکومت کی جانب سے عام طور پر تین سے چار دنوں کی چھٹی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس دوران: تعلیمی ادارے: اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں مکمل طور پر بند رہتی ہیں۔ بینک اور اسٹاک ایکسچینج: مالیاتی ادارے بند رہتے ہیں، اس لیے اے ٹی ایم (ATM) سے رقم کا حصول عید سے پہلے کر لینا بہتر ہے۔ ہسپتال: ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں، لیکن او پی ڈی (OPD) بند ہوتی ہے۔ میڈیا: ٹیلی ویژن چینلز عید کے خصوصی پروگرام، فلمیں اور ڈرامے نشر کرتے ہیں جو عید کی خوشیوں کو دوبالا کر دیتے ہیں۔

علاقائی تنوع اور روایات

پاکستان کے مختلف صوبوں میں عید منانے کے اپنے اپنے منفرد انداز بھی ہیں۔

پنجاب: یہاں عید کے موقع پر میلوں کا رجحان زیادہ ہے۔ دیہاتوں میں ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالا جاتا ہے اور روایتی کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ سندھ: سندھ میں لوگ اجرک اور سندھی ٹوپی پہن کر عید کی نماز ادا کرتے ہیں۔ یہاں مچھلی اور بریانی کے خاص پکوان مشہور ہیں۔ خیبر پختونخوا: پختون ثقافت میں عید پر مہمان نوازی کی ایک الگ ہی شان ہوتی ہے۔ یہاں لوگ گروہوں کی صورت میں ایک دوسرے کے گھر جاتے ہیں اور "چپل کباب" جیسے پکوانوں سے تواضع کی جاتی ہے۔ بلوچستان: بلوچ قبائل میں عید کے موقع پر "سجی" تیار کرنا ایک روایت ہے۔ یہاں کے لوگ اپنے مخصوص روایتی رقص 'چھاپ' کے ذریعے خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

عید الفطر کا پیغام

عید الفطر کا اصل پیغام محبت، رواداری اور ایثار ہے۔ رمضان کے مہینے میں بھوک اور پیاس کا تجربہ کرنے کے بعد، ایک مسلمان کو غریبوں کی تکالیف کا احساس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں عید کے موقع پر خیرات اور صدقات کی بڑی مقدار تقسیم کی جاتی ہے۔ لوگ اپنے ذاتی رنجشوں کو ختم کر کے ایک دوسرے کو معاف کر دیتے ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں، جو معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، عید الفطر سماجی یکجہتی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خوشی تبھی مکمل ہوتی ہے جب اس میں دوسروں کو شامل کیا جائے۔ چاہے وہ گھر کا ملازم ہو، گلی کا چوکیدار ہو یا کوئی اجنبی ضرورت مند، پاکستانی قوم اپنی سخاوت کے لیے جانی جاتی ہے اور عید اس سخاوت کا بہترین مظہر ہے۔

خلاصہ

عید الفطر 2026 پاکستان میں روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جائے گی۔ March 22, 2026 کو ہونے والا یہ جشن محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ پاکستانی ثقافت کا ایک لازوال حصہ ہے۔ 78 دن بعد جب شوال کا چاند افق پر نمودار ہوگا، تو ایک بار پھر مسجدوں سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں گی، گھروں میں میٹھی سوئیوں کی خوشبو پھیلے گی اور ہر چہرہ مسرت سے کھل اٹھے گا۔ یہ دن ہمیں صبر کا صلہ، اتحاد کی طاقت اور بانٹنے کی خوشی سکھاتا ہے۔

عید مبارک!

Frequently Asked Questions

Common questions about Eid-ul-Fitr Holiday in Pakistan

پاکستان میں عید الفطر کا تہوار 2026 میں Sunday، March 22, 2026 کو متوقع ہے۔ اس خوشی کے موقع میں اب تقریباً 78 دن باقی ہیں۔ یاد رہے کہ عید کی حتمی تاریخ کا انحصار شوال کا چاند نظر آنے پر ہوتا ہے، جس کا باقاعدہ اعلان رویت ہلال کمیٹی کرتی ہے۔ عام طور پر یہ تہوار رمضان المبارک کے 29 یا 30 روزوں کے بعد یکم شوال کو منایا جاتا ہے۔

جی ہاں، عید الفطر پاکستان میں ایک بڑی سرکاری اور قومی تعطیل ہے۔ حکومت عام طور پر اس موقع پر تین سے چار دن کی عام تعطیلات کا اعلان کرتی ہے تاکہ شہری اپنے خاندانوں کے ساتھ عید کی خوشیاں منا سکیں۔ اس دوران تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، بینک، دفاتر اور کاروباری مراکز بند رہتے ہیں۔ لوگ ان تعطیلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور رشتہ داروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔

عید الفطر، جسے 'روزہ افطار کرنے کا تہوار' بھی کہا جاتا ہے، اسلامی تاریخ میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا آغاز 624 عیسوی میں مدینہ منورہ میں ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے روزوں کی تکمیل پر اسے خوشی کے دن کے طور پر مقرر فرمایا۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر اور عبادت کی توفیق ملنے پر شکر گزاری کا دن ہے۔ یہ مسلمانوں کو اتحاد، بھائی چارے اور سخاوت کا درس دیتا ہے اور رمضان کے پورے مہینے کی روحانی تربیت کے اختتام کی علامت ہے۔

پاکستان میں عید کا آغاز صبح سویرے مساجد یا عید گاہوں میں عید کی خصوصی نماز کی ادائیگی سے ہوتا ہے۔ نماز سے پہلے 'زکوٰۃ الفطر' یا فطرانہ ادا کیا جاتا ہے تاکہ غریب لوگ بھی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ مرد حضرات نئے کپڑے، جو کہ عموماً روایتی شلوار قمیض ہوتے ہیں، پہن کر نماز کے لیے جاتے ہیں۔ نماز کے بعد ایک دوسرے کو 'عید مبارک' کہا جاتا ہے اور گلے ملا جاتا ہے۔ خواتین گھروں کو سجاتی ہیں اور ہاتھوں پر مہندی لگاتی ہیں۔

پاکستانی ثقافت میں عید الفطر کو 'میٹھی عید' بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن خاص طور پر شیر خورمہ، سویاں اور مختلف قسم کے حلوے تیار کیے جاتے ہیں۔ ایک اہم روایت 'عیدی' ہے، جس میں خاندان کے بڑے چھوٹوں کو نقد رقم بطور تحفہ دیتے ہیں۔ دوپہر اور رات کے کھانے پر خاندان کے تمام افراد اکٹھے ہوتے ہیں اور لذیذ پکوانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ چاند رات کو بازاروں میں خوب گہما گہمی ہوتی ہے جہاں لوگ آخری لمحات کی خریداری، چوڑیوں اور مہندی کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

عید کے موقع پر پاکستان آنے والے سیاحوں کو چاہیے کہ وہ مقامی روایات کا احترام کریں۔ لباس میں اعتدال رکھیں اور کندھوں و گھٹنوں کو ڈھانپنے والے کپڑے پہنیں۔ اگرچہ غیر مسلموں پر روزے کی پابندی نہیں، لیکن رمضان کے آخری دنوں میں عوامی مقامات پر کھانے پینے سے گریز کرنا بہتر ہے۔ عید کے دنوں میں ہجوم اور ٹریفک کی زیادتی ہو سکتی ہے، اس لیے سفری منصوبہ بندی پہلے سے کر لیں۔ مقامی لوگوں کی طرف سے عید کی مبارکباد کا جواب مسکراہٹ اور 'عید مبارک' سے دینا بہت پسند کیا جاتا ہے۔

عید کی تعطیلات (عموماً 20 سے 23 مارچ کے درمیان) کے دوران پاکستان میں تقریباً تمام کاروباری سرگرمیاں معطل رہتی ہیں۔ بینک اور سرکاری دفاتر مکمل بند ہوتے ہیں، اس لیے رقم کا لین دین یا دفتری کام پہلے سے مکمل کر لینا چاہیے۔ بڑے شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹ عید کے دوسرے یا تیسرے دن کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب تو ہوتی ہے لیکن اس میں بہت زیادہ رش ہوتا ہے کیونکہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہوتے ہیں۔

اگرچہ عید کی بنیادی روح پورے پاکستان میں ایک ہی ہے، لیکن علاقائی رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بازاروں کی رونق اور میلوں کا سماں ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں عید زیادہ تر برادری اور خاندان کے گرد گھومتی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے گھر جا کر روایتی کھانے کھاتے ہیں۔ چاند رات کی گہما گہمی شہری علاقوں میں زیادہ ہوتی ہے جہاں رات بھر دکانیں کھلی رہتی ہیں۔ تمام علاقوں میں صدقہ و خیرات اور غریبوں کی مدد پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔