ہولی: پاکستان میں رنگوں اور بھائی چارے کا تہوار
ہولی، جسے عام طور پر "رنگوں کا تہوار" کہا جاتا ہے، پاکستان میں ہندو برادری کے سب سے بڑے اور پرجوش تہواروں میں سے ایک ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ بہار کی آمد، محبت کے اظہار اور برائی پر اچھائی کی فتح کا ایک خوبصورت استعارہ ہے۔ پاکستان کی سرزمین، خاص طور پر صوبہ سندھ، اس تہوار کے موقع پر رنگوں میں نہا جاتی ہے، جہاں صدیوں سے آباد ہندو برادری اپنی ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے انتہائی جوش و خروش سے مناتی ہے۔ یہ دن اس بات کی علامت ہے کہ زندگی میں رنگوں کی اہمیت کیا ہے اور کس طرح خوشیاں بانٹنے سے معاشرے میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان میں ہولی کا جشن ایک منفرد سماجی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ اپنی تمام تر رنجشیں بھلا کر ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں اور چہروں پر گلال (رنگین پاؤڈر) مل کر دوستی کا عہد کرتے ہیں۔ اس تہوار کی روح "پہلاد" کی کہانی اور "ہولیکا" کے جلنے میں پوشیدہ ہے، جو ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچائی ہمیشہ غالب رہتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں، ہولی کا تہوار بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال بن کر ابھرتا ہے، کیونکہ اکثر مقامات پر مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی اپنے ہندو بھائیوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
تہوار کا آغاز سردیوں کے خاتمے اور بہار کے قدموں کی چاپ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور ہوا میں ایک خاص قسم کی تازگی محسوس ہوتی ہے، تو ہولی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ پاکستان کے شہروں جیسے کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور خاص طور پر تھرپارکر کے علاقے مٹھی میں، جہاں ہندو آبادی بڑی تعداد میں مقیم ہے، گلیوں اور مندروں کو برقی قمقموں اور رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجایا جاتا ہے۔ یہ محض ایک دن کا کھیل نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی تجربہ ہے جو لوگوں کو جوڑتا ہے۔
پاکستان میں ہولی 2026 کب ہے؟
پاکستان میں ہولی کا تعین قمری تقویم (ہندو کیلنڈر) کے مطابق کیا جاتا ہے، اسی لیے اس کی تاریخ ہر سال بدلتی رہتی ہے۔ سال 2026 کے لیے ہولی کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
مرکزی دن (رنگوالی ہولی): Wednesday، March 4, 2026
ہولیکا دہن (آگ جلانے کی رسم): پیر، 2 مارچ 2026
باقی ماندہ دن: ہولی آنے میں اب صرف 60 دن باقی ہیں۔
ہولی کی تاریخ کا تعین پھالگن کے مہینے میں پورے چاند (پورنیما) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں سندھ کے مقامی پنچانگ (کیلنڈر) کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات تاریخوں میں ایک آدھ دن کا فرق آ سکتا ہے، تاہم سرکاری اور سماجی طور پر March 4, 2026 کو ہی مرکزی جشن کے طور پر منایا جائے گا۔
تاریخ اور اصلیت: برائی پر اچھائی کی جیت
ہولی کی تاریخ قدیم ہندوستان کی دیومالائی داستانوں میں چھپی ہوئی ہے۔ اس کا سب سے اہم پہلو "ہولیکا دہن" ہے، جو اس تہوار سے ایک رات پہلے منایا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق، ایک ظالم بادشاہ ہرنیاکشیپو خود کو خدا کہلوانا چاہتا تھا، لیکن اس کا اپنا بیٹا پہلاد بھگوان وشنو کا سچا بھگت تھا۔ بادشاہ نے اپنے بیٹے کو مارنے کی کئی کوششیں کیں لیکن ناکام رہا۔ آخر کار، بادشاہ کی بہن "ہولیکا"، جسے آگ میں نہ جلنے کا وردان حاصل تھا، پہلاد کو گود میں لے کر آگ کے الاؤ میں بیٹھ گئی تاکہ اسے جلا کر خاک کر دے۔
تاہم، معجزاتی طور پر پہلاد اپنی عقیدت کی وجہ سے محفوظ رہا اور ہولیکا خود آگ میں جل کر راکھ ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہولی کی پہلی رات کو لکڑیاں اور خشک پتے جمع کر کے آگ جلائی جاتی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ برائی چاہے کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، سچائی کی آگ اسے ختم کر دیتی ہے۔ پاکستان میں ہندو برادری اس رسم کو بڑی عقیدت سے ادا کرتی ہے، جہاں مندروں کے باہر بڑے الاؤ روشن کیے جاتے ہیں اور لوگ اس کے گرد چکر لگا کر دعائیں مانگتے ہیں۔
اس کے علاوہ، ہولی کا تعلق بھگوان کرشن اور رادھا کی محبت کی کہانی سے بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کرشن جی اپنی سانولی رنگت کی وجہ سے پریشان تھے اور انہوں نے اپنی والدہ کے مشورے پر رادھا کے چہرے پر رنگ مل دیا تھا، جس کے بعد سے رنگوں سے کھیلنے کی یہ روایت شروع ہوئی۔ یہ پہلو ہولی کو محبت اور شرارت کا تہوار بناتا ہے، جہاں نوجوان طبقہ موسیقی کی دھنوں پر رقص کرتا ہے اور ایک دوسرے پر رنگ پھینکتا ہے۔
پاکستان میں ہولی منانے کا طریقہ
پاکستان میں ہولی منانے کا انداز انتہائی روایتی اور پرجوش ہوتا ہے۔ جشن کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1. ہولیکا دہن (پہلی رات)
تہوار کا آغاز سورج ڈھلنے کے بعد ہوتا ہے۔ کراچی کے شری سوامی نارائن مندر یا مٹھی کے قدیم مندروں میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ ایک بڑا الاؤ روشن کیا جاتا ہے جسے "ہولیکا کی آگ" کہا جاتا ہے۔ لوگ اس آگ میں اناج، ناریل اور دیگر اشیاء ڈالتے ہیں اور بھجن گاتے ہیں۔ یہ وقت خاندانوں کے اکٹھے ہونے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا ہوتا ہے۔ فضا میں دعاؤں اور خوشبوؤں کا ایک عجیب سا اثر ہوتا ہے جو آنے والے دن کی خوشیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
2. رنگوالی ہولی (دوسرا دن)
اگلی صبح اصل جشن شروع ہوتا ہے۔ "برا نہ مانو ہولی ہے" کے نعروں کے ساتھ بچے، بوڑھے اور جوان گلیوں میں نکل آتے ہیں۔ پاکستان میں اس دن گلال (خشک رنگ) کے ساتھ ساتھ پانی والے رنگوں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پچکاریوں اور غباروں کا استعمال بچوں میں بہت مقبول ہے۔
موسیقی اور رقص: ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا اور روایتی لوک رقص ہولی کا لازمی حصہ ہیں۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں صوفیانہ کلام اور ہولی کے گیت گائے جاتے ہیں جو اس تہوار کو ایک منفرد رنگ دیتے ہیں۔
لباس: لوگ عام طور پر پرانے سفید کپڑے پہنتے ہیں تاکہ رنگ ان پر واضح طور پر نظر آئیں اور قیمتی ملبوسات خراب نہ ہوں۔
رنگوں کی علامات: ہر رنگ کی اپنی اہمیت ہے۔ سرخ رنگ محبت اور طاقت کی علامت ہے، نیلا رنگ بھگوان کرشن کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ ہرا رنگ بہار اور نئی شروعات کو ظاہر کرتا ہے۔
روایتی پکوان اور مشروبات
کوئی بھی پاکستانی تہوار کھانوں کے بغیر ادھورا ہے، اور ہولی پر تو خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔
گوجھیا (Gujiya): یہ ایک میٹھی کچوری کی طرح ہوتی ہے جس میں کھویا، خشک میوہ جات اور چینی بھری ہوتی ہے۔ یہ ہولی کی سب سے مشہور مٹھائی ہے۔
تھنڈائی (Thandai): یہ ایک ٹھنڈا مشروب ہے جو دودھ، بادام، زعفران اور مختلف مصالحوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر اس میں روایتی طور پر "بھنگ" کا ہلکا سا استعمال بھی کیا جاتا ہے، جسے مذہبی تناظر میں قانونی اور مقدس سمجھا جاتا ہے، لیکن سیاحوں کو اس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔
پکوڑے اور نمکین: رنگوں سے کھیلنے کے بعد جب بھوک لگتی ہے تو گرم گرم پکوڑے، چاٹ اور مختلف قسم کے نمکین دسترخوان کی زینت بنتے ہیں۔
پاکستان میں ہولی کے اہم مراکز
اگر آپ پاکستان میں ہولی کی حقیقی روح کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو درج ذیل مقامات بہترین ہیں:
- مٹھی (تھرپارکر): یہ پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جہاں ہندو برادری بڑی اکثریت میں ہے۔ یہاں ہولی کسی قومی تہوار کی طرح منائی جاتی ہے۔ مٹھی کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مسلمان بھی اپنے ہندو پڑوسیوں کے ساتھ مل کر رنگ کھیلتے ہیں، جو پاکستان کی اصل خوبصورتی ہے۔
- کراچی: کراچی میں شری سوامی نارائن مندر (ایم اے جناح روڈ) جشن کا مرکز ہوتا ہے۔ یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں اور ایک بڑا میلہ لگتا ہے۔ اس کے علاوہ لیاری اور کلفٹن کے مندروں میں بھی بڑی تقریبات ہوتی ہیں۔
- حیدرآباد: سندھ کا یہ تاریخی شہر اپنی قدیم روایات کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی ہولی بہت منظم اور پروقار ہوتی ہے۔
- لاہور: لاہور میں کرشنا مندر (راوی روڈ) پر ہولی کا اہتمام کیا جاتا ہے، جہاں پنجاب کی ثقافت اور ہولی کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔
سیاحوں اور زائرین کے لیے ہدایات
اگر آپ پہلی بار پاکستان میں ہولی کا تجربہ کر رہے ہیں، تو ان باتوں کا خیال رکھیں:
لباس کا انتخاب: ایسے کپڑے پہنیں جنہیں خراب ہونے پر آپ کو دکھ نہ ہو۔ سفید سوتی کپڑے بہترین رہتے ہیں۔
جلد اور آنکھوں کی حفاظت: رنگوں میں کیمیکل ہو سکتے ہیں، اس لیے کھیلنے سے پہلے چہرے اور بالوں پر ناریل کا تیل یا لوشن لگائیں۔ آنکھوں کی حفاظت کے لیے دھوپ کے چشمے (Goggles) پہننا بہتر ہے۔
اجازت لینا: کسی پر رنگ پھینکنے سے پہلے اس کے موڈ اور رضامندی کا اندازہ ضرور لگائیں، خاص طور پر بزرگوں اور خواتین کے معاملے میں۔
مندروں کا احترام: مندروں کے اندر جاتے وقت جوتے اتاریں اور وہاں کی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ فوٹو گرافی سے پہلے اجازت لینا بہتر ہے۔
پانی کا استعمال: پاکستان میں پانی کی کمی کے مسائل ہو سکتے ہیں، اس لیے رنگوں سے کھیلتے وقت پانی کا ضیاع کم سے کم کرنے کی کوشش کریں۔
سماجی اور سیاسی اہمیت
پاکستان کی تاریخ میں ہولی کو ہمیشہ ایک اقلیتی تہوار کے طور پر دیکھا گیا، لیکن حالیہ برسوں میں اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ 2016 میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت ہولی، دیوالی اور ایسٹر کو ہندو اور مسیحی برادری کے لیے عام تعطیل قرار دینے کی سفارش کی گئی تھی۔ اگرچہ یہ پورے ملک میں لازمی سرکاری چھٹی نہیں ہے، لیکن سندھ حکومت اکثر اس موقع پر ہندو ملازمین کے لیے عام تعطیل کا اعلان کرتی ہے۔
یہ اقدام پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "آپ آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں..." ہولی کا تہوار پاکستانی ہندوؤں کو اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور ریاست کی جانب سے ملنے والی پذیرائی ان کے اندر تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہے۔
کیا ہولی پر سرکاری چھٹی ہوتی ہے؟
پاکستان میں ہولی کے حوالے سے چھٹی کی صورتحال کچھ یوں ہے:
سرکاری ملازمین: وفاقی سطح پر ہولی کی عام تعطیل نہیں ہوتی، لیکن ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کو "اختیاری چھٹی" (Optional Holiday) لینے کا حق حاصل ہے۔
صوبہ سندھ: چونکہ سندھ میں ہندوؤں کی بڑی تعداد آباد ہے، اس لیے سندھ حکومت اکثر ہولی کے موقع پر پورے صوبے میں عام تعطیل کا اعلان کرتی ہے۔ اس دن تمام سرکاری دفاتر، اسکول اور کالج بند رہتے ہیں۔
نجی شعبہ: نجی ادارے عام طور پر کھلے رہتے ہیں، تاہم ہندو ملازمین کو چھٹی دی جاتی ہے۔
کاروبار اور ٹرانسپورٹ: بازار اور دکانیں عام طور پر کھلی رہتی ہیں، لیکن ہندو اکثریتی علاقوں میں کاروبار بند ہو سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چلتی ہے، لیکن جشن والے علاقوں میں رش کی وجہ سے رکاوٹ آ سکتی ہے۔
ہولی اور امن کا پیغام
ہولی صرف رنگوں کا کھیل نہیں بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے کا ایک ذریعہ ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں متنوع ثقافتیں موجود ہیں، ہولی کا تہوار ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلافات کے باوجود ہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں رنگ بھر سکتے ہیں۔ جب ایک مسلمان اپنے ہندو دوست کو ہولی کی مبارکباد دیتا ہے یا اس پر رنگ پھینکتا ہے، تو وہ تمام نفرتیں اور تعصبات مٹ جاتے ہیں جو معاشرے میں تقسیم پیدا کرتے ہیں۔
سال 2026 کی ہولی پاکستان میں امن، خوشحالی اور محبت کا پیغام لے کر آ رہی ہے۔ اگر آپ اس دوران پاکستان میں ہوں، تو اس رنگین تجربے کا حصہ بننا ہرگز نہ بھولیں، کیونکہ یہ وہ یادیں ہیں جو تاحیات آپ کے ساتھ رہیں گی۔
ہولی کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
1. کیا غیر ہندو ہولی میں شرکت کر سکتے ہیں؟
جی بالکل! پاکستان میں ہولی ایک سماجی تہوار بن چکا ہے اور بہت سے مسلمان، سکھ اور مسیحی اپنے دوستوں کے ساتھ اس میں شرکت کرتے ہیں۔
2. کیا پاکستان میں ہولی منانا محفوظ ہے؟
ہاں، زیادہ تر مندروں اور ہندو بستیوں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں۔ تاہم، ہجوم والی جگہوں پر محتاط رہنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔
3. ہولی کے لیے بہترین وقت کیا ہے؟
رنگوں کا اصل کھیل صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ہوتا ہے۔ اس کے بعد لوگ نہا دھو کر نئے کپڑے پہنتے ہیں اور شام کو ایک دوسرے کے گھر مٹھائیاں لے کر جاتے ہیں۔
4. کیا رنگ آسانی سے اتر جاتے ہیں؟
آج کل زیادہ تر قدرتی اور نامیاتی رنگ (Organic Colors) استعمال کیے جاتے ہیں جو ایک دو بار دھونے سے اتر جاتے ہیں۔ تاہم، گہرے رنگوں کو اتارنے کے لیے لیموں یا دہی کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ہولی 2026 کی آمد میں اب صرف 60 دن رہ گئے ہیں، تو اپنی تیاریاں مکمل کریں اور اس بہار کو رنگوں کے نام کر دیں!