Holiday Details
- Holiday Name
- Eid-ul-Fitr Holiday
- Country
- Pakistan
- Date
- March 21, 2026
- Day of Week
- Saturday
- Status
- 77 days away
- Weekend
- Falls on weekend
- About this Holiday
- Eid-ul-Fitr Holiday is a public holiday in Pakistan
Pakistan • March 21, 2026 • Saturday
Also known as: عید الفطر
عید الفطر پاکستان میں منایا جانے والا سب سے پرمسرت اور اہم ترین مذہبی تہوار ہے، جو رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے اختتام کی علامت ہے۔ یہ دن صرف ایک چھٹی نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزاری، روحانی پاکیزگی، اور سماجی اتحاد کا ایک عظیم مظہر ہے۔ اسے "میٹھی عید" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دن مسلمان ایک ماہ کے روزوں کے بعد اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے میٹھی اشیاء سے اپنی خوشیوں کا آغاز کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں کی اکثریت مسلمان ہے، عید الفطر کا سماجی تانا بانا بہت گہرا ہے، جو امیر اور غریب کو ایک صف میں لا کھڑا کرتا ہے۔
پاکستان میں عید الفطر کی اہمیت اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ یہ خاندانوں کو دوبارہ جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ ملک بھر میں لوگ اپنے کام کاج چھوڑ کر اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ یہ خوشیاں بانٹ سکیں۔ یہ دن ایثار، بھائی چارے اور ہمدردی کے جذبات کو جلا بخشتا ہے۔ فطرانہ کی ادائیگی کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ معاشرے کا کوئی بھی فرد، چاہے وہ کتنا ہی غریب کیوں نہ ہو، عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔ یہ اسلامی تعلیمات کا وہ عملی نمونہ ہے جو پاکستانی معاشرت میں رچ بس گیا ہے۔
اس دن کا جوہر "روحانی فتح" میں چھپا ہے۔ رمضان کے تیس روزوں کے دوران مسلمان اپنے نفس پر قابو پانے، صبر کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کی جو مشق کرتے ہیں، عید الفطر اس کا انعام ہے۔ پاکستان کے گلی کوچوں میں عید کی تیاریاں ہفتوں پہلے شروع ہو جاتی ہیں، جو چاند رات کو اپنے عروج پر پہنچتی ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی خوشی دوسروں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے اور انسانیت کی خدمت کرنے میں ہے۔
پاکستان میں عید الفطر کا تعین قمری کیلنڈر (اسلامی کیلنڈر) کے مطابق چاند کی رویت پر ہوتا ہے۔ سال 2026 کے لیے متوقع تفصیلات درج ذیل ہیں:
عید کی تاریخ: March 21, 2026 عید کا دن: Saturday باقی ماندہ وقت: عید الفطر کی آمد میں اب صرف 77 دن باقی ہیں۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ اسلامی مہینے کا آغاز چاند دیکھنے سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں "مرکزی رویت ہلال کمیٹی" چاند کی شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد عید کا سرکاری اعلان کرتی ہے۔ اگرچہ سائنسی حساب کتاب سے تاریخ کا پہلے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، لیکن حتمی فیصلہ رویتِ ہلال کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے تاریخ میں ایک دن کی تبدیلی ممکن ہے۔
عید الفطر کی تاریخ اسلام کے ابتدائی دور سے ملتی ہے۔ اس کا آغاز ہجرتِ مدینہ کے دوسرے سال (624 عیسوی) میں ہوا۔ روایت ہے کہ جب نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ سال میں دو دن جشن مناتے تھے جو ان کی قدیم روایات کا حصہ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں، اور وہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ ہیں۔
عید الفطر یکم شوال کو منائی جاتی ہے۔ یہ دن "یوم الجائزہ" یعنی انعام کا دن بھی کہلاتا ہے۔ پاکستان میں عید کی تاریخ یہاں کی ثقافت کے ساتھ اس طرح جڑی ہوئی ہے کہ یہ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک قومی جشن بن چکا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی عیدین کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا جاتا ہے تاکہ قوم مل کر اس دن کی برکات سمیٹ سکے۔
پاکستان میں عید کا جشن عید سے ایک رات پہلے شروع ہو جاتا ہے جسے "چاند رات" کہا جاتا ہے۔ جیسے ہی مرکزی رویت ہلال کمیٹی شوال کے چاند کا اعلان کرتی ہے، پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
1۔ خریداری کا جوش و خروش: رمضان کے آخری عشرے میں بازاروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ لوگ نئے کپڑے، جوتے اور جیولری خریدتے ہیں۔ درزیوں کی دکانوں پر رات بھر کام جاری رہتا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد میں بازار سحری تک کھلے رہتے ہیں۔
2۔ مہندی اور چوڑیاں: خواتین اور بچیوں کے لیے چاند رات کا مطلب مہندی اور رنگ برنگی چوڑیاں ہیں۔ ہر بازار میں مہندی کے اسٹالز لگ جاتے ہیں جہاں لڑکیاں اپنے ہاتھوں پر خوبصورت ڈیزائن بنواتی ہیں۔ یہ پاکستانی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے۔
3۔ مردوں کی تیاریاں: مرد حضرات عام طور پر سفید یا رنگین کلف لگے ہوئے شلوار قمیض اور واسکٹ کا انتخاب کرتے ہیں۔ عید کی صبح کے لیے نئی ٹوپیاں اور عطر خریدنا بھی روایات میں شامل ہے۔
عید الفطر کا دن پاکستان میں انتہائی نظم و ضبط اور روایتی طریقے سے منایا جاتا ہے۔
1۔ عید کی نماز: عید کا آغاز صبح سویرے غسل کرنے اور نئے کپڑے پہننے سے ہوتا ہے۔ مرد اور بچے بڑی تعداد میں عیدگاہوں، جامع مساجد اور کھلے میدانوں میں عید کی نماز ادا کرنے جاتے ہیں۔ نماز کے بعد امام صاحب خطبہ دیتے ہیں جس میں ملک کی سلامتی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔ نماز کے اختتام پر لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر "عید مبارک" کہتے ہیں۔
2۔ صدقہ فطر (فطرانہ): نمازِ عید سے پہلے فطرانہ ادا کرنا واجب ہے۔ یہ ایک مخصوص رقم ہوتی ہے جو گھر کے ہر فرد کی طرف سے مستحقین کو دی جاتی ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ پاکستان میں لوگ مساجد یا فلاحی اداروں کے ذریعے یہ رقم غریبوں تک پہنچاتے ہیں۔
3۔ میٹھے پکوان: عید الفطر کو میٹھی عید کہنے کی سب سے بڑی وجہ اس دن بننے والے خاص پکوان ہیں۔ پاکستان میں "شیر خورمہ" (دودھ، سویاں اور خشک میوہ جات سے بنا میٹھا) عید کی پہچان ہے۔ اس کے علاوہ رنگین سویاں، کھیر اور فیرنی بھی بڑے شوق سے بنائی جاتی ہے۔ مہمانوں کی تواضع میٹھے کے ساتھ ساتھ نمکین پکوانوں جیسے بریانی، قورمہ اور کباب سے کی جاتی ہے۔
4۔ عیدی کی روایت: عید کا سب سے پسندیدہ حصہ، خاص طور پر بچوں کے لیے، "عیدی" ہے۔ خاندان کے بڑے بزرگ بچوں اور چھوٹوں کو نقد رقم بطور تحفہ دیتے ہیں۔ یہ روایت نسل در نسل چلی آ رہی ہے اور بچوں میں عید کا جوش برقرار رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
5۔ خاندانی ملاقاتیں: نماز کے بعد پورا دن رشتہ داروں اور دوستوں کے گھر آنے جانے میں گزرتا ہے۔ پاکستان میں یہ روایت ہے کہ لوگ اپنے بڑوں کے گھر جمع ہوتے ہیں جہاں بڑے پیمانے پر ضیافتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ناراض رشتہ داروں کو منانے اور باہمی رنجشیں ختم کرنے کے لیے عید کا دن بہترین سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ عید کی بنیادی روح پورے پاکستان میں ایک جیسی ہے، لیکن مختلف صوبوں میں اس کے منانے کے انداز میں تھوڑا فرق پایا جاتا ہے:
پنجاب: یہاں عید پر دیہی علاقوں میں میلے لگتے ہیں، جہاں کشتی اور دیگر روایتی کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ کھانے پینے کے اسٹالز اور جھولے بچوں کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ سندھ: سندھ میں مرد حضرات عید پر خاص طور پر "اجرک" اور سندھی ٹوپی پہنتے ہیں۔ یہاں ضیافتوں میں سندھی بریانی اور خاص روایتی مٹھائیاں پیش کی جاتی ہیں۔ خیبر پختونخوا: پختون ثقافت میں عید پر مہمان نوازی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ یہاں لوگ گروہوں کی شکل میں اکٹھے ہو کر کھانا کھاتے ہیں اور روایتی "اتن" (رقص) بھی کیا جاتا ہے۔ بلوچستان: بلوچ قبائل میں عید کے موقع پر دنبے کا گوشت اور "سجی" تیار کی جاتی ہے۔ بلوچی کڑھائی والے لباس عید کی رونق کو دوبالا کر دیتے ہیں۔
اگر آپ عید کے دوران پاکستان میں ہیں، تو یہ آپ کے لیے ایک یادگار تجربہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
1۔ لباس اور آداب: پاکستان ایک قدامت پسند معاشرہ ہے۔ عید کے موقع پر مقامی ثقافت کا احترام کرتے ہوئے مناسب لباس (شلوار قمیض وغیرہ) پہننا بہتر ہے۔ جب آپ کسی کو عید کی مبارکباد دیں تو "عید مبارک" کہیں، یہ سن کر مقامی لوگ بہت خوش ہوتے ہیں۔
2۔ سفر کی منصوبہ بندی: عید سے دو تین دن پہلے اور عید کے بعد سفر کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ٹرینیں، بسیں اور پروازیں ہفتوں پہلے بک ہو جاتی ہیں۔ شہروں کے اندر ٹریفک کا دباؤ کم ہوتا ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ اپنے علاقوں کو جا چکے ہوتے ہیں، لیکن چاند رات کو بازاروں میں شدید رش ہوتا ہے۔
3۔ دکانوں اور دفاتر کے اوقات: عید کے تینوں دن تمام سرکاری دفاتر، بینک اور تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں۔ چھوٹی دکانیں اور بازار بھی عید کے پہلے اور دوسرے دن بند ہو سکتے ہیں۔ تاہم، بڑے شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹس عید کے دوسرے دن سے کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
4۔ میزبانی کا لطف اٹھائیں: پاکستانی اپنی مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں۔ عید پر اگر کوئی آپ کو اپنے گھر کھانے پر مدعو کرے، تو اسے ضرور قبول کریں۔ یہ آپ کو پاکستانی ثقافت اور کھانوں کو قریب سے جاننے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔
جی ہاں، عید الفطر پاکستان میں ایک بڑی سرکاری چھٹی ہے۔ حکومت پاکستان عام طور پر عید کے موقع پر تین سے چار دن کی تعطیلات کا اعلان کرتی ہے۔
تعطیل کا دورانیہ: سال 2026 میں توقع ہے کہ چھٹیاں March 21, 2026 سے شروع ہو کر اگلے تین دنوں تک جاری رہیں گی۔ کیا بند رہے گا؟ تمام وفاقی اور صوبائی سرکاری دفاتر، عدالتیں، اسکول، کالجز، یونیورسٹیاں اور اسٹاک ایکسچینج مکمل طور پر بند رہیں گے۔ کاروباری ادارے: بینک اور بڑی فیکٹریاں بھی بند رہتی ہیں۔ نجی شعبے میں بھی ملازمین کو چھٹی دی جاتی ہے۔ ضروری خدمات: صرف ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز، پولیس، ریسکیو سروسز (1122) اور دیگر ہنگامی خدمات کے ادارے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ: پبلک ٹرانسپورٹ محدود ہو سکتی ہے، اس لیے پہلے سے انتظام کرنا ضروری ہے۔
پاکستان میں عید الفطر صرف کھانے پینے اور نئے کپڑے پہننے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایثار اور قربانی کا سبق دیتی ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانیت کی خدمت ہی اصل عبادت ہے۔ زکوٰۃ اور فطرانہ کے نظام کے ذریعے دولت کی منصفانہ تقسیم کا جو تصور اسلام نے دیا ہے، عید اس کا عملی اظہار ہے۔
پاکستانی قوم کے لیے عید اتحاد کا پیغام لاتی ہے۔ مساجد میں جب مختلف طبقوں کے لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، تو رنگ، نسل اور طبقے کی تمام دیواریں گر جاتی ہیں۔ یہ دن ہمیں اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں کی یاد دلاتا ہے اور ہمیں ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے۔
2026 کی عید پاکستان میں ایک بار پھر وہی خوشیاں، امن اور بھائی چارہ لے کر آئے گی جس کا انتظار ہر پاکستانی کو رہتا ہے۔ اگر آپ اس سال عید پاکستان میں منا رہے ہیں، تو تیار ہو جائیے ایک ایسی رنگین اور محبت بھری تقریب کے لیے جو آپ کے دل پر انمٹ نقوش چھوڑ جائے گی۔
عید مبارک!
Common questions about Eid-ul-Fitr Holiday in Pakistan
پاکستان میں عید الفطر 2026 کا آغاز ممکنہ طور پر Saturday، March 21, 2026 کو ہوگا۔ آج سے اس مبارک تہوار میں تقریباً 77 دن باقی ہیں۔ تاہم، حتمی تاریخ کا انحصار مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے شوال کا چاند دیکھنے پر ہے، جس کی وجہ سے تاریخ میں ایک دن کی تبدیلی ممکن ہے۔
جی ہاں، عید الفطر پاکستان میں ایک بڑی سرکاری چھٹی ہے۔ حکومت عام طور پر اس موقع پر تین روزہ قومی تعطیلات کا اعلان کرتی ہے، جو کہ اس بار 20 مارچ سے 23 مارچ تک متوقع ہیں۔ اس دوران تمام سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے، بینک اور کاروباری مراکز بند رہتے ہیں، البتہ ہسپتالوں جیسی ضروری خدمات فراہم کرنے والے ادارے کھلے رہتے ہیں۔
عید الفطر رمضان المبارک کے 29 یا 30 روزوں کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام کے طور پر منائی جاتی ہے۔ یہ تہوار شکر گزاری، روحانی نظم و ضبط اور اتحاد کی علامت ہے۔ اس کی شروعات نبی کریم ﷺ نے 624 عیسوی میں مدینہ منورہ میں فرمائی تھی۔ پاکستان میں یہ دن مذہبی عقیدت اور ثقافتی جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے، جہاں خاندان اکٹھے ہوتے ہیں اور غریبوں کی مدد کی جاتی ہے۔
عید کے دن کا آغاز صبح سویرے مساجد، کھلے میدانوں اور عید گاہوں میں عید کی خصوصی نماز کی ادائیگی سے ہوتا ہے۔ مرد حضرات نئے کپڑے پہن کر نماز کے لیے جاتے ہیں اور نماز کے بعد ایک دوسرے کو گلے مل کر 'عید مبارک' کہتے ہیں۔ نماز سے پہلے 'صدقہ فطر' کی ادائیگی لازمی ہے تاکہ معاشرے کے غریب طبقے کے لوگ بھی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
پاکستان میں عید الفطر کو 'میٹھی عید' بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کا سب سے خاص پکوان 'شیر خورمہ' (سویاں) ہے جو دودھ اور خشک میوہ جات سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بریانی، نہاری اور مختلف قسم کے میٹھے دسترخوان کی زینت بنتے ہیں۔ لوگ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے گھر جا کر ان پکوانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
پاکستان میں عید کی سب سے مقبول روایت 'عیدی' ہے، جس میں بڑے بزرگ بچوں اور چھوٹوں کو بطور تحفہ نقد رقم دیتے ہیں۔ خواتین اور لڑکیاں چاند رات کو ہاتھوں پر مہندی لگاتی ہیں اور چوڑیوں کی خریداری کرتی ہیں۔ لوگ نئے جوڑے، واسکٹ اور روایتی شلوار قمیض پہن کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
سیاحوں کو چاہیے کہ وہ عید کے دوران باوقار اور مناسب لباس (شلوار قمیض یا کندھے ڈھانپنے والا لباس) پہنیں۔ عید کی نماز کے مقامات پر تصاویر لینے سے پہلے اجازت ضرور لیں۔ چونکہ اس دوران لوگ اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، اس لیے ہوٹل اور فلائٹ کی بکنگ پہلے سے کر لینی چاہیے۔ بازاروں میں رش کی وجہ سے نقد رقم ساتھ رکھنا بہتر ہے کیونکہ اے ٹی ایمز پر ہجوم ہو سکتا ہے۔
عید سے پہلی رات کو 'چاند رات' کہا جاتا ہے۔ جب شوال کا چاند نظر آ جاتا ہے تو پاکستان بھر میں جشن کا سماں ہوتا ہے۔ بازار رات بھر کھلے رہتے ہیں جہاں لوگ آخری لمحات کی خریداری، مہندی اور چوڑیوں کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ رات پاکستانی ثقافت میں انتہائی متحرک اور پرجوش سمجھی جاتی ہے۔
Eid-ul-Fitr Holiday dates in Pakistan from 2010 to 2025
| Year | Day of Week | Date |
|---|---|---|
| 2025 | Tuesday | April 1, 2025 |
| 2024 | Thursday | April 11, 2024 |
| 2023 | Friday | April 21, 2023 |
| 2022 | Monday | May 2, 2022 |
| 2021 | Monday | May 10, 2021 |
| 2020 | Friday | May 22, 2020 |
| 2019 | Thursday | June 6, 2019 |
| 2018 | Sunday | June 17, 2018 |
| 2017 | Tuesday | June 27, 2017 |
| 2016 | Tuesday | July 5, 2016 |
| 2015 | Saturday | July 18, 2015 |
| 2014 | Wednesday | July 30, 2014 |
| 2013 | Friday | August 9, 2013 |
| 2012 | Monday | August 20, 2012 |
| 2011 | Thursday | September 1, 2011 |
| 2010 | Saturday | September 11, 2010 |
Note: Holiday dates may vary. Some holidays follow lunar calendars or have different observance dates. Purple indicates weekends.