عید الفطر: پاکستان میں خوشیوں اور بھائی چارے کا عظیم تہوار
عید الفطر پاکستان میں منایا جانے والا سب سے بڑا مذہبی تہوار ہے، جو رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے ایک انعام کے طور پر آتا ہے۔ یہ دن نہ صرف روزوں کی تکمیل کی خوشی ہے بلکہ یہ روحانی بالیدگی، صبر، شکر گزاری اور انسانی ہمدردی کا مظہر بھی ہے۔ پاکستان کے طول و عرض میں، کراچی کے ساحلوں سے لے کر خیبر کے پہاڑوں تک، یہ دن انتہائی جوش و خروش، عقیدت اور ثقافتی رنگوں کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اسے عام زبان میں "میٹھی عید" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دن مختلف قسم کے میٹھے پکوان، خاص طور پر شیر خورمہ اور سویاں تیار کی جاتی ہیں۔
پاکستان میں عید الفطر کی اہمیت محض ایک چھٹی کی نہیں بلکہ یہ سماجی رابطوں کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں۔ مساجد اور عید گاہیں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے والے مومنین سے بھر جاتی ہیں۔ بچوں کے لیے یہ دن عیدی، نئے کپڑوں اور کھلونوں کی خوشیاں لاتا ہے، جبکہ بڑوں کے لیے یہ رشتہ داروں سے ملنے اور غریبوں کی مدد کرنے کا موقع ہوتا ہے۔ عید الفطر کا پیغام امن، محبت اور اخوت ہے، جو پاکستانی معاشرے کی بنیادوں میں رچا ہوا ہے۔
عید الفطر 2026 میں کب ہے؟
پاکستان میں عید الفطر کا تعین قمری کیلنڈر یعنی چاند کی رویت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ سال 2026 کے لیے متوقع معلومات درج ذیل ہیں:
عید کا دن: Friday
عید کی تاریخ: March 20, 2026
باقی دن: عید الفطر کی آمد میں اب صرف 76 دن باقی ہیں۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ اسلامی تہواروں کی تاریخ کا حتمی فیصلہ "مرکزی رویت ہلال کمیٹی" کے اجلاس میں چاند نظر آنے کے اعلان کے بعد کیا جاتا ہے۔ عام طور پر پاکستان میں رمضان المبارک 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے، جس کے بعد یکم شوال کو عید منائی جاتی ہے۔ اگر 29 رمضان (19 مارچ 2026) کو چاند نظر آ جاتا ہے تو عید March 20, 2026 کو ہوگی، بصورت دیگر یہ اگلے دن ہوگی۔
عید الفطر کی تاریخ اور پس منظر
عید الفطر کی تاریخ اسلام کے ابتدائی دور سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کا آغاز 624 عیسوی میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ روایات کے مطابق، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ سال میں دو دن کھیل کود اور جشن مناتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں: ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحیٰ۔
عید الفطر کا تعلق براہ راست رمضان المبارک کے روزوں سے ہے۔ رمضان اسلام کا تیسرا بنیادی رکن ہے، جس میں مسلمان طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور دیگر نفسانی خواہشات سے پرہیز کرتے ہیں۔ جب یہ ایک ماہ کی عبادت مکمل ہوتی ہے، تو یکم شوال کو اس کامیابی کا جشن منایا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر، یہ دن مسلمانوں کی پہلی بڑی جنگ، غزوہ بدر میں فتح کے بعد آنے والی پہلی عید بھی تھی، جس نے اس کی اہمیت کو مزید دوچند کر دیا۔
پاکستان میں عید کی تیاریاں اور "چاند رات"
پاکستان میں عید کی تیاریاں رمضان کے آخری عشرے میں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ بازاروں میں رات گئے تک رونق رہتی ہے، جہاں لوگ کپڑے، جوتے اور جیولری کی خریداری میں مصروف ہوتے ہیں۔ لیکن اصل ہیجان "چاند رات" کو دیکھنے کو ملتا ہے۔
چاند رات کی رونقیں:
جیسے ہی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان ہوتا ہے، پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ مساجد سے مبارکباد کے اعلانات ہوتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کو فون اور میسجز کے ذریعے "عید مبارک" کہتے ہیں۔ چاند رات کو خواتین اور لڑکیاں مہندی لگانے اور چوڑیاں خریدنے کے لیے بازاروں کا رخ کرتی ہیں۔ بیوٹی پارلرز اور درزیوں کی دکانوں پر تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ مرد حضرات اکثر حجامت بنوانے اور گاڑیوں میں ایندھن بھروانے جیسی آخری لمحات کی تیاریوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔
عید کا دن: روایات اور جشن
پاکستان میں عید کا دن ایک خاص ترتیب سے گزرتا ہے جس میں مذہبی فرائض اور سماجی روایات کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔
1۔ عید کی نماز:
عید کے دن کا آغاز غسل کرنے، نئے لباس زیب تن کرنے اور خوشبو لگانے سے ہوتا ہے۔ مرد حضرات اور بچے بڑی تعداد میں مساجد، عید گاہوں اور کھلے میدانوں میں عید کی نماز ادا کرنے جاتے ہیں۔ نماز سے پہلے "صدقہ فطر" ادا کرنا واجب ہے تاکہ معاشرے کے نادار لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔ نماز کے بعد امام صاحب خطبہ دیتے ہیں جس میں امن اور اتحاد کا درس دیا جاتا ہے۔ دعا کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔
2۔ عیدی کی روایت:
پاکستانی عید کا سب سے پسندیدہ حصہ "عیدی" ہے۔ خاندان کے بڑے بزرگ بچوں اور چھوٹوں کو نقد رقم بطور تحفہ دیتے ہیں جسے عیدی کہا جاتا ہے۔ بچے مہینوں پہلے سے عیدی کے منصوبے بناتے ہیں اور نئے نوٹوں کے حصول کے لیے بڑوں کی منت سماجت کرتے ہیں۔ یہ روایت نسل در نسل چلی آ رہی ہے اور خاندانی محبت کو بڑھانے کا ذریعہ ہے۔
3۔ دسترخوان اور پکوان:
پاکستان میں عید بغیر لذیذ کھانوں کے ادھوری ہے۔ صبح کی شروعات "شیر خورمہ" سے ہوتی ہے، جو دودھ، چھواروں، میوہ جات اور سویوں سے بنتا ہے۔ دوپہر کے کھانے میں عموماً نمکین پکوان جیسے بریانی، قورمہ، کباب اور کڑاہی گوشت تیار کیے جاتے ہیں۔ ہر گھر کی اپنی خاص ڈش ہوتی ہے جو مہمانوں کی تواضع کے لیے پیش کی جاتی ہے۔
4۔ رشتہ داروں سے ملاقات:
عید کا دوسرا اور تیسرا دن عام طور پر دور دراز کے رشتہ داروں اور دوستوں کے گھر جانے کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے گھر مٹھائیاں اور تحائف لے کر جاتے ہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں عید کے موقع پر میلے بھی لگتے ہیں جہاں جھولے، موت کا کنواں اور مختلف کرتب دکھائے جاتے ہیں۔
صدقہ فطر اور سماجی ذمہ داری
عید الفطر کا ایک اہم پہلو "زکوٰۃ الفطر" یا "فطرانہ" ہے۔ یہ وہ رقم یا اناج ہے جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر واجب ہے کہ وہ عید کی نماز سے پہلے غریبوں کو دے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی سفید پوش یا محتاج شخص عید کے دن بھوکا نہ رہے اور وہ بھی نئے کپڑے اور اچھا کھانا حاصل کر سکے۔ پاکستان کے لوگ دل کھول کر خیرات کرتے ہیں، اور بہت سے فلاحی ادارے اس موقع پر خصوصی مہم چلاتے ہیں تاکہ یتیموں اور بیواؤں تک عید کی خوشیاں پہنچائی جا سکیں۔
سیاحوں اور غیر ملکیوں کے لیے معلومات
اگر آپ 2026 میں عید کے دوران پاکستان میں ہیں، تو آپ کو درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
عوامی تعطیلات: حکومت پاکستان عام طور پر عید کے موقع پر تین سے چار دن کی عام تعطیل کا اعلان کرتی ہے۔ اس دوران تمام بینک، سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور بڑی مارکیٹیں بند رہتی ہیں۔
ٹرانسپورٹ: عید سے چند دن پہلے شہروں سے دیہات کی طرف جانے والوں کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔ ٹرینوں اور بسوں کی بکنگ ہفتوں پہلے مکمل ہو جاتی ہے۔ عید کے دن سڑکوں پر ٹریفک کم ہوتی ہے لیکن شام کے وقت تفریحی مقامات پر بہت ہجوم ہوتا ہے۔
لباس اور آداب: عید ایک مذہبی تہوار ہے، اس لیے مناسب ہوگا کہ آپ پاکستانی ثقافت کے مطابق لباس (شلوار قمیض) پہنیں۔ اگر آپ کسی کے گھر مدعو ہیں، تو پھول یا مٹھائی کا ڈبہ لے جانا ایک اچھا عمل سمجھا جاتا ہے۔
موسم کی صورتحال: March 20, 2026 کو پاکستان کے بیشتر حصوں میں موسم معتدل اور خوشگوار ہونے کی توقع ہے۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں درجہ حرارت 20 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہ سکتا ہے، جو آؤٹ ڈور سرگرمیوں کے لیے بہترین ہے۔
کیا یہ عام تعطیل ہے؟
جی ہاں، عید الفطر پاکستان میں ایک بڑی سرکاری چھٹی ہے۔ سال 2026 میں، 20 مارچ سے 23 مارچ تک تعطیلات کا امکان ہے۔ اس دوران:
تمام تعلیمی ادارے اور سرکاری و نجی دفاتر بند رہیں گے۔
ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز بحال رہتی ہیں لیکن او پی ڈی بند ہو سکتی ہے۔
چھوٹی دکانیں اور کریانہ اسٹورز عید کی نماز کے کچھ دیر بعد کھل سکتے ہیں، لیکن بڑے شاپنگ مالز عموماً عید کے دوسرے دن سے فعال ہوتے ہیں۔
عید الفطر پاکستان کی قومی یکجہتی کا آئینہ دار ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب امیر اور غریب ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہیں، جو اسلام کے مساوات کے پیغام کو زندہ کرتا ہے۔ چاہے آپ لاہور کی بادشاہی مسجد میں ہوں یا کراچی کی میمن مسجد میں، عید کی خوشی اور روحانیت ہر جگہ یکساں محسوس ہوتی ہے۔
عید مبارک!