یومِ پاکستان: ایک عظیم قومی عزم کی داستان
یومِ پاکستان، جسے "قراردادِ پاکستان کا دن" بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم اور سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والا دن ہے۔ یہ دن صرف ایک چھٹی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اس عظیم جدوجہد، قربانی اور وژن کی یاد دلاتا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ ہر سال 23 مارچ کو پورا ملک اس عزم کی تجدید کرتا ہے کہ ہم ایک متحد، مضبوط اور خوشحال قوم بن کر ابھریں گے۔ یہ دن پاکستانیوں کے دلوں میں حب الوطنی کی لہر دوڑاتا ہے اور ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے اس خواب کی یاد دلاتا ہے جو انہوں نے ایک علیحدہ وطن کی صورت میں دیکھا تھا۔
اس دن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دو اہم تاریخی واقعات کا مجموعہ ہے۔ پہلا واقعہ 23 مارچ 1940 کا ہے جب لاہور کے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے دوران تاریخی "قراردادِ لاہور" منظور کی گئی، جس نے قیامِ پاکستان کی بنیاد رکھی۔ دوسرا اہم واقعہ 23 مارچ 1956 کا ہے، جب پاکستان نے اپنا پہلا آئین اپنایا اور ملک باقاعدہ طور پر ایک "اسلامی جمہوریہ" قرار پایا۔ اس طرح یہ دن ہماری سیاسی جدوجہد اور آئینی خود مختاری دونوں کا عکاس ہے۔
یومِ پاکستان کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ ہمیں "اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط" کا درس دیتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ایک قوم ایک مقصد کے لیے متحد ہو جاتی ہے، تو دنیا کی کوئی طاقت اسے اپنی منزل حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔ اسلام آباد میں ہونے والی شاندار فوجی پریڈ سے لے کر گلی کوچوں میں لہراتے سبز ہلالی پرچم تک، ہر چیز اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاکستانی قوم اپنے ملک سے کتنی محبت کرتی ہے اور اس کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
یومِ پاکستان 2026 میں کب ہے؟
پاکستان میں یومِ پاکستان ہر سال ایک ہی مقررہ تاریخ یعنی 23 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ سال 2026 میں اس دن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
تاریخ: March 23, 2026
دن: Monday
باقی دن: اس عظیم قومی دن کی آمد میں اب صرف 79 دن باقی ہیں۔
یومِ پاکستان ایک "فکسڈ" یا مقررہ تاریخ کی تعطیل ہے۔ اسلامی کیلنڈر کے برعکس، جو چاند کی رویت پر منحصر ہوتا ہے، یومِ پاکستان شمسی کیلنڈر (گریگورین کیلنڈر) کے مطابق ہمیشہ 23 مارچ کو ہی منایا جاتا ہے۔ اس لیے عوام اور حکومت کو اس کی تیاریوں کے لیے کافی وقت مل جاتا ہے۔
تاریخی پس منظر اور اہمیت
یومِ پاکستان کا پس منظر برصغیر کے مسلمانوں کی ایک طویل سیاسی اور سماجی جدوجہد سے جڑا ہوا ہے۔ 1940 سے پہلے، برصغیر کے مسلمان مختلف سیاسی پلیٹ فارمز سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے تھے، لیکن 23 مارچ 1940 کو ایک واضح منزل کا تعین کر دیا گیا۔
قراردادِ لاہور 1940
22 سے 24 مارچ 1940 تک لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کا تین روزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے کی۔ 23 مارچ کو شیرِ بنگال اے کے فضل الحق نے وہ تاریخی قرارداد پیش کی جسے شروع میں "قراردادِ لاہور" کہا گیا، لیکن بعد میں یہ "قراردادِ پاکستان" کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس قرارداد میں واضح طور پر مطالبہ کیا گیا کہ ہندوستان کے وہ علاقے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے (جیسے شمال مغربی اور مشرقی علاقے)، انہیں آزاد ریاستوں کی شکل دی جائے جہاں مسلمان اپنے مذہب، ثقافت اور روایات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
قائدِ اعظم نے اپنے صدارتی خطبے میں دو قومی نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں جن کا رہن سہن، تاریخ اور ہیرو مختلف ہیں۔ اس قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا اور صرف سات سال کی قلیل مدت میں 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔
1956 کا آئین اور جمہوریہ کا قیام
قیامِ پاکستان کے بعد، ملک کو ایک مستقل آئین کی ضرورت تھی۔ 23 مارچ 1956 کو پاکستان نے اپنا پہلا متفقہ آئین نافذ کیا۔ اس دن پاکستان برطانوی تسلط (Dominion Status) سے مکمل طور پر آزاد ہو کر "اسلامی جمہوریہ پاکستان" بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ 23 مارچ کو "یومِ جمہوریہ" کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ بعد میں آئین تبدیل ہوتے رہے، لیکن 23 مارچ کی آئینی اہمیت برقرار رہی۔
تقریبات اور جشن کا انداز
یومِ پاکستان کا جشن پورے ملک میں روایتی جوش و خروش اور وقار کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن کی تقریبات کا مقصد نہ صرف ماضی کو یاد کرنا ہے بلکہ نئی نسل کو پاکستان کے قیام کے مقاصد سے روشناس کرانا بھی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں فوجی پریڈ
اس دن کی سب سے بڑی اور پروقار تقریب اسلام آباد میں ہونے والی "پاکستان ڈے پریڈ" ہے۔ یہ پریڈ شکر پڑیاں کے قریب پریڈ گراؤنڈ میں منعقد ہوتی ہے۔ اس تقریب میں صدرِ مملکت، وزیراعظم، مسلح افواج کے سربراہان اور غیر ملکی مہمان شرکت کرتے ہیں۔
مسلح افواج کا مظاہرہ: پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے دستے مارچ پاسٹ کرتے ہیں۔
فلائی پاسٹ: پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے (جیسے جے ایف-17 تھنڈر اور ایف-16) فضا میں رنگ بکھیرتے ہوئے سلامی دیتے ہیں۔
ثقافتی جھلکیاں: پریڈ میں مختلف صوبوں (پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان) کے خوبصورت فلوٹس (Floats) دکھائے جاتے ہیں جو پاکستان کی متنوع ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔
جدید اسلحہ کی نمائش: پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہوئے میزائلوں، ٹینکوں اور دیگر جدید دفاعی آلات کی نمائش کرتا ہے۔
توپوں کی سلامی اور دعائیہ تقریبات
دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں (لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ) میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوتا ہے۔ مساجد میں نمازِ فجر کے بعد ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔
سرکاری اعزازات کی تقسیم
یومِ پاکستان کے موقع پر صدرِ مملکت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افراد کو سول اور ملٹری اعزازات سے نوازتے ہیں۔ ان اعزازات میں نشانِ امتیاز، ہلالِ امتیاز، ستارہِ امتیاز اور تمغہِ حسنِ کارکردگی شامل ہیں۔
تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر تقریبات
اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تقریری مقابلے، ملی نغموں کے پروگرام اور ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں۔ سرکاری عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے اور شاہراہوں کو سبز ہلالی پرچموں اور برقی قمقموں سے سجایا جاتا ہے۔ لوگ اپنے گھروں اور گاڑیوں پر جھنڈے لگاتے ہیں، جو ان کی وطن سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔
روایات اور سماجی رسم و رواج
پاکستانی معاشرے میں یومِ پاکستان ایک ایسا دن ہے جو لوگوں کو جوڑتا ہے۔ اگرچہ یہ کوئی مذہبی تہوار نہیں ہے، لیکن اس کی سماجی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
- قومی لباس کا استعمال: اس دن زیادہ تر لوگ سفید اور سبز رنگ کے لباس پہنتے ہیں جو پاکستانی پرچم کے رنگ ہیں۔ مرد حضرات عموماً سفید شلوار قمیض اور واسکٹ پہنتے ہیں، جبکہ خواتین سبز اور سفید سوٹ کے ساتھ ہری چوڑیاں اور جھنڈے والے بیجز لگاتی ہیں۔
- میڈیا کا کردار: تمام ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز خصوصی پروگرام نشر کرتے ہیں۔ تحریکِ پاکستان کے حوالے سے دستاویزی فلمیں دکھائی جاتی ہیں اور ملی نغمے پورا دن فضا میں گونجتے ہیں۔ "دل دل پاکستان" اور "جیوے جیوے پاکستان" جیسے نغمے آج بھی ہر پاکستانی کا خون گرما دیتے ہیں۔
- خاندانوں کا میل جول: چونکہ یہ عام تعطیل ہوتی ہے، اس لیے خاندان اکٹھے ہوتے ہیں۔ لوگ پکنک کے لیے پارکوں کا رخ کرتے ہیں یا گھروں میں دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ لاہور میں لوگ خاص طور پر "مینارِ پاکستان" جاتے ہیں تاکہ اس جگہ کو دیکھ سکیں جہاں قرارداد منظور ہوئی تھی۔
- سوشل میڈیا پر مہمات: دورِ جدید میں، پاکستانی نوجوان سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ #PakistanDay کے ساتھ اپنی تصاویر، پیغامات اور ملی نغمے شیئر کرتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگر ہوتا ہے۔
سیاحوں کے لیے عملی معلومات
اگر آپ 2026 میں یومِ پاکستان کے موقع پر پاکستان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو درج ذیل معلومات آپ کے لیے مفید ثابت ہوں گی:
پریڈ دیکھنا: اسلام آباد میں ہونے والی فوجی پریڈ دیکھنے کے لیے خصوصی انٹری پاس کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ متعلقہ حکام یا ٹور آپریٹرز سے پہلے رابطہ کریں۔ پریڈ کے دوران سیکیورٹی انتہائی سخت ہوتی ہے اور موبائل سگنلز عارضی طور پر بند کیے جا سکتے ہیں۔
تاریخی مقامات کی سیر: لاہور میں "مینارِ پاکستان"، "شاہی قلعہ" اور "بادشاہی مسجد" ضرور دیکھیں۔ یہ مقامات تحریکِ پاکستان کی تاریخ سے بھرے ہوئے ہیں۔ کراچی میں "مزارِ قائد" (قائدِ اعظم کا مقبرہ) پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب ایک شاندار تجربہ ہوتا ہے۔
لباس اور آداب: پاکستان ایک روایتی ملک ہے۔ سیاحوں کو چاہیے کہ وہ باوقار اور مناسب لباس پہنیں۔ قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہونا اور قومی علامات کا احترام کرنا ضروری ہے۔
موسم کی صورتحال: مارچ کے آخر میں پاکستان کا موسم انتہائی خوشگوار ہوتا ہے۔ درجہ حرارت عام طور پر 20 سے 30 ڈگری سیلسیئس کے درمیان رہتا ہے۔ یہ نہ تو زیادہ سرد ہوتا ہے اور نہ ہی زیادہ گرم، جو کہ گھومنے پھرنے کے لیے بہترین ہے۔
ٹرانسپورٹ اور رہائش: بڑے شہروں میں ٹریفک کے مخصوص روٹس پریڈ یا تقریبات کی وجہ سے بند ہو سکتے ہیں۔ اپنی نقل و حرکت کا منصوبہ پہلے سے بنائیں۔ ہوٹلوں کی بکنگ بھی پہلے کروانا بہتر ہے کیونکہ اس موقع پر سیاحوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔
عوامی تعطیل کی تفصیلات
یومِ پاکستان (23 مارچ) پورے ملک میں ایک سرکاری تعطیل (Public Holiday) ہے۔
کیا بند رہتا ہے؟: تمام سرکاری دفاتر، بینک، تعلیمی ادارے (اسکول، کالج، یونیورسٹیاں) اور ڈاکخانے مکمل طور پر بند رہتے ہیں۔ زیادہ تر نجی کمپنیاں بھی اپنے ملازمین کو چھٹی دیتی ہیں۔
کیا کھلا رہتا ہے؟: ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز، فارمیسیز اور ضروری خدمات کے ادارے کھلے رہتے ہیں۔ بڑے شاپنگ مالز، ریستوراں اور پارکس دوپہر کے بعد کھل جاتے ہیں جہاں عوام کا بہت زیادہ رش دیکھنے کو ملتا ہے۔
- ٹرانسپورٹ: پبلک ٹرانسپورٹ (بسیں، ٹیکسیاں) چلتی ہیں، لیکن کچھ مخصوص علاقوں میں سیکیورٹی کی وجہ سے راستے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی اور مقامی پروازیں اپنے شیڈول کے مطابق چلتی ہیں، تاہم ایئرپورٹ تک پہنچنے کے لیے اضافی وقت رکھنا چاہیے۔
اختتامی کلمات
یومِ پاکستان محض ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ یہ ہماری قومی شناخت کا جوہر ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے جس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ March 23, 2026 کو جب ہم دوبارہ یہ دن منائیں گے، تو ہمارا مقصد صرف جشن منانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں گے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کی تعبیر کے لیے قائدِ اعظم نے جدوجہد کی تھی۔
چاہے آپ پاکستان میں ہوں یا بیرونِ ملک مقیم ایک پاکستانی، یومِ پاکستان آپ کے لیے اپنی جڑوں سے جڑنے اور اپنی قوم پر فخر کرنے کا بہترین موقع ہے۔ آئیے اس دن کو اس عزم کے ساتھ منائیں کہ ہم پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
پاکستان زندہ باد!