شب معراج: پاکستان میں ایک عظیم روحانی سفر کی یاد
شب معراج، جسے اسرا اور معراج بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے مسلمانوں کے لیے عقیدت، احترام اور روحانیت کا ایک ایسا سنگ میل ہے جو ہر سال اسلامی مہینے رجب کی ستائیسویں تاریخ کو انتہائی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔ یہ رات محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ کائنات کے سب سے بڑے معجزے کی یادگار ہے، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے بیت المقدس اور پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں کی سیر کرائی۔ پاکستان میں اس رات کو "جاگنے کی رات" یا "عبادت کی رات" کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں ہر شہر اور بستی اللہ کے ذکر سے منور ہو جاتی ہے۔
اس رات کی خاص بات اس کا وہ روحانی پہلو ہے جو انسانی عقل کو حیران کر دیتا ہے۔ یہ وہ سفر ہے جس میں وقت تھم گیا، کائنات کے راز افشا ہوئے اور انسانیت کو نماز جیسا عظیم تحفہ ملا۔ پاکستانی معاشرے میں شب معراج کا تصور ایک ایسی رات کا ہے جس میں رحمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور گناہوں کی بخشش کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ یہ رات مسلمانوں کو یاد دلاتی ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان تعلق کتنا گہرا ہے اور کس طرح ایک انسان روحانی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔
پاکستان کے طول و عرض میں، چاہے وہ کراچی کی روشن گلیاں ہوں، لاہور کے تاریخی مقامات ہوں یا اسلام آباد کی پرسکون فضائیں، ہر جگہ ایک خاص قسم کا سکون اور نورانیت محسوس کی جاتی ہے۔ لوگ اس رات کو اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے اور اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ رات نہ صرف انفرادی طور پر بلکہ اجتماعی طور پر بھی پاکستانی مسلمانوں کو متحد کرتی ہے، جب وہ مساجد میں مل کر اللہ کے حضور سربسجود ہوتے ہیں۔
سال 2026 میں شب معراج کب ہے؟
پاکستان میں سال 2026 میں شب معراج کی تاریخ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اسلامی کیلنڈر چاند کی رویت پر مبنی ہے، اس لیے اس کی تاریخ ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
پاکستان میں شب معراج کی متوقع معلومات درج ذیل ہیں:
تاریخ: January 16, 2026
دن: Friday
باقی دن: اس عظیم رات کی آمد میں اب صرف 13 دن باقی ہیں۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ اسلامی مہینوں کا آغاز چاند دیکھنے سے ہوتا ہے، تاہم فلکیاتی حسابات کے مطابق پاکستان میں 27 رجب 1447 ہجری کی یہ مبارک رات January 16, 2026 کو ہوگی۔ یہ ایک متغیر (Variable) تاریخ ہے جو ہر سال گریگورین کیلنڈر کے مطابق تقریباً 10 سے 11 دن پیچھے چلی جاتی ہے۔
تاریخی اور مذہبی پس منظر: ایک معجزاتی سفر
شب معراج کا واقعہ ہجرتِ مدینہ سے تقریباً ایک سال قبل، یعنی 621 عیسوی کے لگ بھگ پیش آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے تھے، جسے "عام الحزن" (غم کا سال) کہا جاتا ہے۔ اس سفر کے دو اہم حصے ہیں جنہیں قرآن اور احادیث میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
اسرا (مکہ سے یروشلم تک کا سفر)
اس سفر کا پہلا مرحلہ "اسرا" کہلاتا ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ کے حکم سے ایک جنتی سواری "براق" لے کر حاضر ہوئے، جو بجلی کی رفتار سے بھی تیز تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ سے بیت المقدس (مسجد اقصیٰ) تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام رسولوں کے سردار (امام الانبیاء) ہیں۔
معراج (آسمانوں کی سیر)
دوسرا مرحلہ "معراج" ہے، جس کا مطلب ہے "بلندی پر جانا"۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتوں آسمانوں کی سیر کی، جہاں آپ کی ملاقات مختلف جلیل القدر انبیاء سے ہوئی، جن میں حضرت آدم، حضرت عیسیٰ، حضرت یحییٰ، حضرت یوسف، حضرت ادریس، حضرت ہارون، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام شامل ہیں۔ اس سفر کی انتہا "سدرۃ المنتہیٰ" تھی، جہاں سے آگے حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی نہیں جا سکتے تھے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے براہ راست کلام کرنے کا شرف حاصل کیا۔
نماز کا تحفہ
اسی رات اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ کے لیے پچاس نمازوں کا تحفہ دیا، جو بعد میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار بار کی درخواست پر کم کر کے پانچ کر دی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص پانچ نمازیں ادا کرے گا اسے پچاس کا ہی ثواب ملے گا۔ یہ واقعہ سورہ النجم اور سورہ بنی اسرائیل میں بیان کیا گیا ہے اور یہ اسلام کے ستون "نماز" کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
پاکستان میں شب معراج کی روایات اور تقریبات
پاکستان میں شب معراج کو ایک مذہبی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، اگرچہ یہ کوئی رسمی جشن نہیں بلکہ ایک عبادت کی رات ہے۔ اس رات کی روایات میں سادگی، وقار اور خشوع و خضوع پایا جاتا ہے۔
مساجد کی رونق اور چراغاں
شب معراج کے موقع پر پاکستان بھر کی مساجد کو برقی قمیقموں، جھنڈیوں اور چراغوں سے سجایا جاتا ہے۔ خاص طور پر بڑی مساجد جیسے لاہور کی بادشاہی مسجد، اسلام آباد کی فیصل مسجد اور کراچی کی میمن مسجد میں خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ گلیوں اور محلوں میں بھی لوگ اپنے گھروں کے باہر چراغ جلاتے ہیں یا لائٹنگ کرتے ہیں، جس سے پورا ملک نور میں نہایا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
محافلِ معراج اور وعظ
مساجد اور خانقاہوں میں "محافلِ معراج" کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جید علماء کرام معراج کے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان محافل میں نعت خوانی اور درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔ دعوتِ اسلامی جیسے بڑے مذہبی ادارے کراچی میں اپنے عالمی مدنی مرکز میں بڑے اجتماعات منعقد کرتے ہیں جن میں ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں۔
شب بیداری اور نوافل
پاکستانی مسلمان اس رات کو سونے کے بجائے عبادت میں گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسے "شب بیداری" کہا جاتا ہے۔ لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر صلوٰۃ التسبیح، نوافل، اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں۔ توبہ و استغفار کی دعائیں مانگی جاتی ہیں اور اللہ سے ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی التجائیں کی جاتی ہیں۔
لنگر اور خیرات
اس رات بہت سے لوگ کھانا پکا کر غریبوں میں بانٹتے ہیں۔ مساجد میں آنے والے عبادت گزاروں کے لیے چائے، دودھ اور مٹھائیوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ گھروں میں حلوہ، کھیر یا دیگر میٹھے پکوان تیار کر کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ یہ عمل بھائی چارے اور سخاوت کے اسلامی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
رجب کا مہینہ اور اس کی فضیلت
پاکستان میں رجب کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایک خاص روحانی ماحول بن جاتا ہے۔ رجب کو "اللہ کا مہینہ" کہا جاتا ہے اور یہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اسلام میں "حرمت والے مہینے" قرار دیا گیا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں یہ مانا جاتا ہے کہ اس مہینے میں کی جانے والی عبادات کا ثواب دیگر مہینوں سے زیادہ ہوتا ہے، جبکہ گناہوں کی سنگینی بھی بڑھ جاتی ہے۔
شب معراج رجب کا عروج ہے، اس لیے لوگ اس پورے مہینے میں روزے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، خاص طور پر 27 رجب کا روزہ بہت فضیلت والا سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ روزہ فرض نہیں ہے، لیکن بہت سے پاکستانی اسے سنت کے طور پر اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے رکھتے ہیں۔
سیاحوں اور غیر ملکیوں کے لیے عملی مشورے
اگر آپ 2026 میں شب معراج کے دوران پاکستان میں موجود ہیں، تو اس روحانی ماحول کا تجربہ کرنا ایک یادگار موقع ہو سکتا ہے۔ تاہم، کچھ آداب اور احتیاطی تدابیر کا خیال رکھنا ضروری ہے:
- مساجد کے آداب: اگر آپ کسی مسجد کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، تو باوضو ہو کر جائیں اور مناسب لباس پہنیں (ایسا لباس جو کندھوں اور گھٹنوں کو ڈھانپے)۔ خواتین کے لیے سر ڈھانپنا ضروری ہے۔ جوتے مسجد کے باہر مخصوص جگہ پر اتاریں۔
- خاموشی اور احترام: مساجد میں لوگ گہری عبادت میں مصروف ہوتے ہیں، اس لیے وہاں شور کرنے یا بلند آواز میں بات کرنے سے گریز کریں۔ عبادت کے دوران تصاویر کھینچنے سے پہلے اجازت ضرور لیں۔
- ہجوم اور ٹریفک: اس رات مساجد اور چراغاں والے علاقوں میں بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔ خاص طور پر غروب آفتاب کے بعد ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اگر آپ کسی بڑے شہر میں ہیں، تو پیدل چلنا یا پہلے سے منصوبہ بندی کرنا بہتر ہے۔
- عوامی مقامات: زیادہ تر دکانیں اور بازار کھلے رہتے ہیں، لیکن مساجد کے قریبی علاقوں میں نماز کے اوقات کے دوران کچھ دکانیں عارضی طور پر بند ہو سکتی ہیں۔
- شرکت کی دعوت: پاکستانی لوگ بہت مہمان نواز ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ کو کسی محفل میں شرکت یا لنگر چکھنے کی دعوت دی جائے۔ اسے قبول کرنا ایک اچھا تجربہ ہو سکتا ہے، لیکن آپ اپنی سہولت کے مطابق انکار بھی کر سکتے ہیں۔
کیا یہ عام تعطیل ہے؟
پاکستان میں شب معراج کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ قومی سطح پر عام تعطیل (Public Holiday) نہیں ہے۔
سرکاری دفاتر اور بینک: تمام سرکاری دفاتر، بینک، اور مالیاتی ادارے January 16, 2026 کو کھلے رہیں گے۔
تعلیمی ادارے: اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں عام طور پر کھلی رہتی ہیں، تاہم کچھ نجی ادارے مقامی سطح پر چھٹی کا اعلان کر سکتے ہیں۔
کاروبار: مارکیٹیں اور شاپنگ مالز معمول کے مطابق کام کرتے ہیں، لیکن رات کے وقت مذہبی سرگرمیوں کی وجہ سے کچھ لوگ جلدی کام ختم کر دیتے ہیں۔
- اگلا دن: 27 رجب کا دن (جو اس سال January 16, 2026 کے بعد یعنی ہفتہ کو ہوگا) بھی کام کا دن ہوتا ہے، لیکن بہت سے لوگ جو رات بھر عبادت کرتے ہیں، وہ اگلے دن تھکن کی وجہ سے چھٹی لے لیتے یا دیر سے کام شروع کرتے ہیں۔
اگرچہ یہ چھٹی نہیں ہے، لیکن پاکستان کا سماجی ڈھانچہ اس رات کی اہمیت کو پوری طرح قبول کرتا ہے اور کام کے ساتھ ساتھ مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے ہر ممکن گنجائش نکالی جاتی ہے۔
شب معراج کا پیغام: ایک روحانی ارتقاء
پاکستان میں شب معراج محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو، اللہ کی رحمت اس کے لیے ہمیشہ کھلی ہے۔ یہ رات ہمیں سکھاتی ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے، یعنی ایک مسلمان نماز کے ذریعے اللہ سے وہی قربت حاصل کر سکتا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عظیم سفر کے دوران حاصل کی۔
پاکستان کے مسلمان اس رات کو اپنے ایمان کی تازگی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ چراغوں کی روشنی اس بات کی علامت ہے کہ اندھیرا جتنا بھی گہرا ہو، حق اور نور کی ایک شمع اسے ختم کر سکتی ہے۔ 2026 کی یہ شب معراج بھی پاکستانیوں کے لیے امن، بھائی چارے اور روحانی بالیدگی کا پیغام لے کر آئے گی، جہاں ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرے گا۔
مختصر یہ کہ شب معراج پاکستان کی مذہبی اور ثقافتی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے جو صدیوں سے اسی عقیدت اور جوش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ یہ رات نہ صرف ماضی کے ایک عظیم معجزے کی یاد دلاتی ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک روحانی سمت بھی متعین کرتی ہے۔