Holiday Details
- Holiday Name
- Basant Panchami
- Country
- Pakistan
- Date
- January 23, 2026
- Day of Week
- Friday
- Status
- 20 days away
- About this Holiday
- Basant Panchami is a optional holiday in Pakistan
Pakistan • January 23, 2026 • Friday
Also known as: بسنت پنچمی
بسنت پنچمی پاکستان، خاص طور پر پنجاب کے دل لاہور میں، محض ایک تہوار نہیں بلکہ ایک زندہ دل ثقافت، رنگوں کی بارش اور بہار کی آمد کا ایک والہانہ اعلان ہے۔ یہ دن موسمِ سرما کی رخصتی اور فطرت کے نئے جنم کا استعارہ ہے۔ جب سرسوں کے کھیت پیلے رنگ کی چادر اوڑھ لیتے ہیں اور ہواؤں میں ایک خاص قسم کی تازگی رچ بس جاتی ہے، تو پنجاب کے باسی اپنی چھتوں پر رنگ برنگی پتنگوں کے ساتھ اس کا استقبال کرتے ہیں۔ یہ تہوار انسانی خوشی، سماجی ہم آہنگی اور زمین سے جڑے ہونے کا اظہار ہے۔ پاکستان میں بسنت کا تصور ذہن میں آتے ہی لاہور کی وہ روشن راتیں، آسمان پر تیرتی ان گنت پتنگیں، "آئی بو" کے پرجوش نعرے اور ڈھول کی تھاپ پر جھومتے لوگ یاد آتے ہیں۔
اس تہوار کی انفرادیت اس کے رنگوں میں چھپی ہے۔ پیلا رنگ اس دن کی پہچان ہے، جو نہ صرف سرسوں کے پھولوں کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ خوشحالی، علم اور نئی امیدوں کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کی جڑیں قدیم تاریخ اور مذہبی روایات میں ملتی ہیں، لیکن پاکستان میں یہ ایک خالصتاً ثقافتی میلے کی شکل اختیار کر چکا ہے جسے ہر مذہب اور طبقے کے لوگ مل کر مناتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی تمام تر سختیوں کے باوجود خوبصورت ہے اور قدرت کا ہر بدلتا موسم اپنے ساتھ خوشیوں کا ایک نیا پیغام لے کر آتا ہے۔
پاکستان میں بسنت پنچمی کا جشن خاص طور پر لاہور، قصور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد جیسے شہروں میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ منایا جاتا رہا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خاندان کے تمام افراد گھروں کی چھتوں پر جمع ہوتے ہیں، روایتی پکوان تیار کیے جاتے ہیں اور موسیقی کی دھنوں پر بہار کا استقبال کیا جاتا ہے۔ یہ میلہ نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ یہ پاکستان کے سیاحتی نقشے پر بھی ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، جہاں دنیا بھر سے لوگ لاہور کی منفرد بسنت کا تجربہ کرنے کھچے چلے آتے ہیں۔
پاکستان میں بسنت پنچمی کا روایتی اور تقویمی جشن 2026 میں درج ذیل تاریخوں پر منایا جائے گا:
تاریخ: January 23, 2026 دن: Friday باقی دن: اس خاص دن کی آمد میں اب صرف 20 دن باقی ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بسنت پنچمی کی تاریخ ہر سال ایک جیسی نہیں رہتی بلکہ یہ قمری تقویم (ماگھ کے مہینے کے پانچویں دن) کے حساب سے بدلتی رہتی ہے۔ تاہم، لاہور میں اس بار حکومتِ پنجاب نے ایک خاص اور باقاعدہ 3 روزہ بسنت میلے کا اعلان کیا ہے جو 6 فروری سے 8 فروری 2026 تک جاری رہے گا۔ اس کا مقصد طویل عرصے سے لگی پابندی کے بعد ایک محفوظ اور منظم طریقے سے شہریوں کو ان کا روایتی تہوار واپس لوٹانا ہے۔
بسنت پنچمی کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور اس کا تعلق قدیم برصغیر کی روایات سے ہے۔ لفظ "بسنت" کے معنی "بہار" کے ہیں اور "پنچمی" کا مطلب "پانچواں دن" ہے، یعنی بہار کے موسم کا پانچواں دن۔
مذہبی اور اساطیری جڑیں: ہندو روایات کے مطابق، یہ دن دیوی سرسوتی کی پیدائش کا دن مانا جاتا ہے، جو علم، موسیقی، فن اور حکمت کی دیوی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دن تعلیمی اداروں اور گھروں میں علم کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مذہبی دائرے سے نکل کر ایک ہمہ گیر موسمی جشن بن گیا۔
صوفیانہ رنگ: پاکستان اور بھارت کے مسلمانوں میں بسنت کی مقبولیت کا سہرا صوفیائے کرام، بالخصوص حضرت نظام الدین اولیاءؒ اور ان کے چہیتے مرید حضرت امیر خسروؒ کے سر جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق، حضرت نظام الدین اولیاء اپنے بھتیجے کے انتقال کے باعث شدید غمزدہ تھے۔ حضرت امیر خسرو نے اپنے مرشد کو غم سے نکالنے اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے زرد لباس پہنا، پیلے پھول لیے اور گاتے ہوئے ان کے پاس پہنچے۔ اس منظر نے مرشد کو مسکرانے پر مجبور کر دیا، اور تب سے چشتیہ سلسلے کے صوفیاء میں بسنت منانے کی روایت جڑ پکڑ گئی۔ آج بھی لاہور میں حضرت مادھو لعل حسینؒ کے مزار پر "میلہ چراغاں" بسنت کے رنگوں کے ساتھ ہی جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دور: 19ویں صدی میں لاہور کے حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بسنت کو ایک باقاعدہ ریاستی میلے کی حیثیت دی۔ وہ خود اور ان کی فوج زرد لباس پہنتی تھی اور قلعہ لاہور پر پتنگ بازی کے بڑے مقابلے منعقد ہوتے تھے۔ اسی دور میں لاہور "بسنت کا دارالحکومت" بن کر ابھرا۔
پاکستان میں، خاص طور پر پنجاب میں، بسنت کا مطلب صرف اور صرف "پتنگ بازی" لیا جاتا ہے۔ یہ ایک جنون ہے جو بوڑھوں، جوانوں اور بچوں سب کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔
ایک طویل عرصے (تقریباً 18 سے 20 سال) تک پاکستان میں بسنت پر پابندی عائد رہی۔ اس کی بنیادی وجہ دھاتی ڈور اور کیمیکل لگی ڈور کا استعمال تھا، جس سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا تھا۔ لیکن 2026 میں پنجاب حکومت، خاص طور پر وزیر اعلیٰ مریم نواز کے وژن کے تحت، بسنت کو ایک منظم اور محفوظ طریقے سے بحال کیا جا رہا ہے۔
حفاظتی اقدامات: ڈور کی سخت نگرانی: صرف حکومت کی منظور شدہ ڈور استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ کیمیکل یا دھاتی ڈور بنانے اور بیچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مخصوص مقامات: حکومت نے لاہور کے کچھ بڑے پارکوں اور کھلے علاقوں کو پتنگ بازی کے لیے مختص کیا ہے تاکہ سڑکوں پر چلنے والے موٹر سائیکل سوار محفوظ رہ سکیں۔ ہوائی فائرنگ پر پابندی: بسنت کے موقع پر ہوائی فائرنگ ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، جس پر اب مکمل پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو فوری گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اگر آپ 2026 میں بسنت کا تجربہ کرنے کے لیے پاکستان آنے کا پلان بنا رہے ہیں، تو درج ذیل معلومات آپ کے لیے مفید ثابت ہوں گی:
بہترین مقام: لاہور بلاشبہ بسنت منانے کے لیے بہترین جگہ ہے۔ اندرون شہر (Walled City) کی تنگ گلیاں اور اونچی چھتیں اس تہوار کا اصل مرکز ہیں۔ لباس: کوشش کریں کہ آپ کے لباس میں پیلے رنگ کا کوئی عنصر شامل ہو تاکہ آپ مقامی رنگ میں رنگے نظر آئیں۔ فروری کے اوائل میں موسم خوشگوار ہوتا ہے، لیکن صبح اور رات کے وقت ہلکی ٹھنڈ ہو سکتی ہے، اس لیے ہلکی جیکٹ یا شال ساتھ رکھیں۔ سیکیورٹی اور احتیاط: ہمیشہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔ موٹر سائیکل پر سفر کرتے وقت ہیلمٹ کے ساتھ ساتھ گردن کی حفاظت کے لیے مخصوص گارڈ یا تار کا استعمال کریں، کیونکہ پتنگ کی ڈور کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ موسیقی اور کھانا: فوڈ اسٹریٹ لاہور (فورٹ روڈ) کا رخ کریں جہاں آپ کو شاہی قلعے کے سائے میں روایتی لاہوری کھانوں اور صوفی موسیقی کا لطف ملے گا۔
بسنت صرف تفریح نہیں بلکہ پنجاب کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس صنعت سے ہزاروں خاندان وابستہ تھے جو پتنگیں اور ڈور بناتے تھے۔ 2026 میں اس کی بحالی سے نہ صرف مقامی فنکاروں (پتنگ سازوں) کو روزگار ملے گا بلکہ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ اور فوڈ سیکٹر کو اس 3 روزہ میلے سے اربوں روپے کا فائدہ ہونے کی توقع ہے۔
سماجی طور پر، یہ تہوار لوگوں کو قریب لاتا ہے۔ چھتوں پر ہونے والی پارٹیاں اجنبیوں کو دوست بنا دیتی ہیں۔ یہ پاکستان کے اس روشن اور پرامن تشخص کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے جو کہ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور زندہ دلی پر مبنی ہے۔
ایک اہم سوال جو اکثر پوچھا جاتا ہے وہ یہ کہ کیا بسنت پنچمی پر پاکستان میں سرکاری چھٹی ہوتی ہے؟
جواب: نہیں، بسنت پنچمی پاکستان میں کوئی قومی یا بینک تعطیل نہیں ہے۔ 23 جنوری 2026 کو تمام سرکاری دفاتر، بینک، اسکول اور کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
تاہم، لاہور میں فروری کے پہلے ہفتے (6 سے 8 فروری) کے دوران ہونے والے مخصوص میلے کی وجہ سے مقامی طور پر کچھ سڑکیں بند ہو سکتی ہیں یا ٹریفک کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں اکثر بسنت کے حوالے سے رنگا رنگ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، لیکن باقاعدہ چھٹی کا اعلان نہیں کیا جاتا۔ ہندو کمیونٹی کے لیے یہ ایک مذہبی دن ہے، اور وہ اپنے مندروں میں پوجا پاٹھ کے لیے خصوصی انتظامات کرتے ہیں۔
بسنت پنچمی پاکستان کے ثقافتی کیلنڈر کا وہ سنہرا باب ہے جو اب دوبارہ کھلنے جا رہا ہے۔ یہ تہوار ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کو رنگوں کے ساتھ کیسے گزارنا ہے اور کس طرح قدرت کی تبدیلیوں کا جشن منانا ہے۔ 2026 کی بسنت لاہور کے لیے ایک نئی صبح کی مانند ہوگی، جہاں آسمان پر اڑتی پتنگیں امن، سلامتی اور خوشحالی کا پیغام دیں گی۔ اگر آپ بہار کے حقیقی جوبن کو دیکھنا چاہتے ہیں، تو January 23, 2026 کے آس پاس لاہور کی چھتوں سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔
آئیے اس بہار کا استقبال ذمہ داری اور خوشی کے ساتھ کریں، تاکہ یہ رنگ ہمیشہ کے لیے ہمارے آسمان پر برقرار رہیں۔ "بسنت مبارک!"
Common questions about Basant Panchami in Pakistan
پاکستان میں بسنت پنچمی کا تہوار 2026 میں January 23, 2026 بروز Friday کو منایا جائے گا۔ اس خوشی کے موقع میں اب صرف 20 باقی ہیں۔ اگرچہ روایتی تاریخ جنوری میں ہے، لیکن لاہور میں خصوصی طور پر بسنت کا میلہ فروری 2026 کے پہلے ہفتے میں منعقد کیا جائے گا تاکہ بہار کی آمد کا بھرپور استقبال کیا جا سکے۔
جی نہیں، بسنت پنچمی پاکستان میں قومی سطح پر عام تعطیل یا بینک کی چھٹی نہیں ہے۔ تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے اور دفاتر معمول کے مطابق کھلتے ہیں۔ تاہم، لاہور اور پنجاب کے دیگر حصوں میں لوگ اسے ایک ثقافتی تہوار کے طور پر جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ خاص طور پر لاہور میں منعقد ہونے والے تین روزہ میلے کے دوران مقامی سطح پر گہما گہمی بڑھ جاتی ہے۔
بسنت پنچمی موسمِ بہار کی آمد کی علامت ہے اور اس کی جڑیں قدیم پنجاب کی ثقافت میں گہری ہیں۔ تاریخی طور پر یہ علم و فنون کی دیوی سرسوتی سے منسوب ہے، لیکن پاکستان میں یہ ایک مشترکہ پنجابی ثقافتی ورثہ بن چکا ہے۔ صوفی روایات کے مطابق، حضرت نظام الدین اولیاء کے مریدوں نے اپنے مرشد کو غم سے نکالنے کے لیے زرد لباس پہن کر یہ دن منایا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں اسے لاہور کا سب سے بڑا میلہ بنا دیا گیا تھا۔
پاکستان میں بسنت کی پہچان پتنگ بازی، زرد رنگ کے لباس اور روایتی کھانوں سے ہے۔ لوگ اپنی چھتوں پر جمع ہو کر موسیقی کی دھنوں میں پتنگیں اڑاتے ہیں اور 'آئی بو' کے نعرے لگاتے ہیں۔ زرد رنگ اس تہوار کا خاص حصہ ہے، جس میں لوگ پیلے کپڑے پہنتے ہیں اور زعفرانی چاول یا زردہ جیسی مٹھائیاں تیار کرتے ہیں۔ لاہور میں 2026 کے لیے حکومت نے ایک منظم اور محفوظ میلے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں ثقافتی رقص اور موسیقی بھی شامل ہوگی۔
لاہور میں طویل عرصے کی پابندی کے بعد، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فروری 2026 میں تین روزہ ریگولیٹڈ بسنت میلے کی منظوری دی ہے۔ یہ میلہ سخت حفاظتی قواعد و ضوابط کے تحت منعقد ہوگا تاکہ ماضی کے حادثات، جیسے دھاتی ڈور اور ہوائی فائرنگ، سے بچا جا سکے۔ اس کا مقصد پنجاب کے روایتی ورثے کو محفوظ طریقے سے بحال کرنا اور سیاحت کو فروغ دینا ہے۔
بسنت کے دوران زرد رنگ کو فوقیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ سرسوں کے پھولوں اور بہار کی علامت ہے۔ روایتی کھانوں میں میٹھے چاول (زردہ)، زعفرانی کھیر اور مختلف قسم کے حلوے شامل ہوتے ہیں۔ خاندان کے افراد چھتوں پر باربی کیو اور ضیافتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ پتنگ بازی کے مقابلے اس تہوار کا سب سے دلچسپ حصہ ہوتے ہیں، جہاں مختلف رنگوں اور سائز کی پتنگوں سے آسمان بھر جاتا ہے۔
سیاحوں کے لیے بہترین مشورہ ہے کہ وہ لاہور کا رخ کریں، جو بسنت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ محفوظ تجربے کے لیے صرف حکومت کے مقرر کردہ مقامات پر جائیں اور موٹر سائیکل چلاتے ہوئے احتیاط برتیں یا گردن کی حفاظت کے لیے تار کا استعمال کریں۔ چھتوں پر ہونے والی تقریبات میں شرکت کریں جہاں آپ کو دیسی کھانے، صوفی موسیقی اور پتنگ بازی کا اصل ماحول ملے گا۔ مقامی قوانین کا احترام کریں اور ممنوعہ ڈور سے پرہیز کریں۔
بھارت میں بسنت پنچمی زیادہ تر مذہبی رنگ میں منائی جاتی ہے جہاں سرسوتی پوجا پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان (خاص کر پنجاب) میں اس کا رخ زیادہ تر ثقافتی اور سیکولر ہے۔ یہاں یہ دن کسی خاص مذہب کے بجائے 'پنجابی ورثے' اور 'بہار کے جشن' کے طور پر منایا جاتا ہے، جہاں پتنگ بازی مرکزی سرگرمی ہوتی ہے اور تمام مذاہب کے لوگ مل کر خوشیاں مناتے ہیں۔
Basant Panchami dates in Pakistan from 2010 to 2025
| Year | Day of Week | Date |
|---|---|---|
| 2025 | Sunday | February 2, 2025 |
| 2024 | Wednesday | February 14, 2024 |
| 2023 | Thursday | January 26, 2023 |
| 2022 | Saturday | February 5, 2022 |
| 2021 | Tuesday | February 16, 2021 |
| 2020 | Wednesday | January 29, 2020 |
| 2019 | Sunday | February 10, 2019 |
| 2018 | Monday | January 22, 2018 |
| 2017 | Wednesday | February 1, 2017 |
| 2016 | Friday | February 12, 2016 |
| 2015 | Saturday | January 24, 2015 |
| 2014 | Tuesday | February 4, 2014 |
| 2013 | Thursday | February 14, 2013 |
| 2012 | Saturday | January 28, 2012 |
| 2011 | Tuesday | February 8, 2011 |
| 2010 | Sunday | January 31, 2010 |
Note: Holiday dates may vary. Some holidays follow lunar calendars or have different observance dates. Purple indicates weekends.