Shivaratri

Pakistan • February 15, 2026 • Sunday

43
Days
15
Hours
27
Mins
40
Secs
until Shivaratri
Asia/Karachi timezone

Holiday Details

Holiday Name
Shivaratri
Country
Pakistan
Date
February 15, 2026
Day of Week
Sunday
Status
43 days away
Weekend
Falls on weekend
About this Holiday
Shivaratri is a optional holiday in Pakistan

About Shivaratri

Also known as: مہا شیوراتری

مہا شیو راتری: پاکستان میں ہندو برادری کا عظیم مذہبی تہوار

مہا شیو راتری، جسے "شیو کی عظیم رات" بھی کہا جاتا ہے، پاکستان میں مقیم ہندو برادری کے لیے سال کے سب سے مقدس اور اہم ترین تہواروں میں سے ایک ہے۔ یہ دن بھگوان شیو کی تعظیم میں منایا جاتا ہے، جو ہندو مت کے بنیادی دیوتاؤں (تثلیث) میں سے ایک ہیں اور جنہیں کائنات کی تخلیق، تحفظ اور تبدیلی کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ یہ تہوار محض ایک مذہبی تقریب ہی نہیں بلکہ یہ برائی پر اچھائی کی جیت، جہالت کے اندھیروں میں علم کی روشنی اور کائناتی توازن کی علامت ہے۔

پاکستان میں اس تہوار کی خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہاں قدیم شیو مندر موجود ہیں جو صدیوں پرانی تاریخ اور ثقافت کے شاہد ہیں۔ مہا شیو راتری کے موقع پر پاکستان کے مختلف شہروں بالخصوص سندھ کے علاقوں میں ایک خاص روحانی سماں ہوتا ہے۔ عقیدت مند اس رات کو جاگ کر گزارتے ہیں، عبادت کرتے ہیں اور بھگوان شیو سے اپنی خطاؤں کی معافی اور کائنات کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ یہ رات اس کائناتی رقص (تاںڈو) کی یاد دلاتی ہے جو شیو نے تخلیق اور تباہی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کیا تھا، اور یہ بھگوان شیو اور دیوی پاروتی کے مقدس ملاپ یعنی ان کی شادی کی سالگرہ کے طور پر بھی منائی جاتی ہے۔

پاکستان کی ہندو برادری کے لیے یہ دن سماجی ہم آہنگی اور اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس موقع پر ملک بھر کے مندروں کو برقی قمقموں اور پھولوں سے سجایا جاتا ہے، اور دور دراز علاقوں سے لوگ قافلوں کی صورت میں تاریخی مندروں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ تہوار انسانیت، صبر اور ایثار کا درس دیتا ہے، جہاں امیر اور غریب ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر اپنے معبود کے حضور سر بسجود ہوتے ہیں۔

پاکستان میں مہا شیو راتری کب ہے؟ 2026

پاکستان میں مہا شیو راتری 2026 کی تاریخ کا تعین قمری کیلنڈر کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ہندو تقویم کے مطابق یہ تہوار ہر سال 'پھالگن' کے مہینے میں چاند کے ڈھلنے کے چودھویں دن (کرشنا پکشا کی چتردشی) کو منایا جاتا ہے۔

2026 میں اس مقدس تہوار کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

دن: Sunday تاریخ: February 15, 2026 باقی دن: اب سے اس تہوار میں صرف 43 دن باقی ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مہا شیو راتری کی تاریخ ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے کیونکہ اس کا انحصار چاند کے مراحل پر ہوتا ہے۔ 2026 میں پاکستان میں ہندو برادری اتوار، 15 فروری کو یہ تہوار منائے گی، تاہم کچھ روایات اور حسابات کے مطابق مذہبی رسومات کا سلسلہ پیر، 16 فروری تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔ پوجا کا سب سے اہم وقت، جسے 'نشیتہ کال' کہا جاتا ہے، فروری 16 کی صبح 12:21 سے 01:11 تک ہوگا، جو تقریباً 51 منٹ کا دورانیہ بنتا ہے۔

مہا شیو راتری کی تاریخ اور اساطیری پس منظر

مہا شیو راتری کے پیچھے کئی قدیم کہانیاں اور مذہبی عقائد وابستہ ہیں جو اس رات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں درج ذیل ہیں:

شیو اور پاروتی کی شادی

سب سے مقبول روایت کے مطابق، اس رات بھگوان شیو نے دیوی پاروتی سے شادی کی تھی۔ یہ ملاپ 'پرش' (روح) اور 'پراکرتی' (فطرت) کے اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے ہندو برادری میں شادی شدہ خواتین اپنے شوہر اور اولاد کی سلامتی کے لیے، جبکہ کنواری لڑکیاں اچھے جیون ساتھی کی دعا کے لیے اس دن کا خاص اہتمام کرتی ہیں۔

سمندر منتھن (سمندر کا ممتھنا)

ایک اور اساطیری قصے کے مطابق، جب دیوتاؤں اور اسوروں (شیطانوں) کے درمیان سمندر منتھن ہو رہا تھا تاکہ 'امررت' (آبِ حیات) حاصل کیا جا سکے، تو اس عمل کے دوران ایک انتہائی زہریلا زہر 'ہلاہل' بھی نکلا۔ یہ زہر پوری کائنات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ کائنات کو بچانے کے لیے بھگوان شیو نے اس زہر کو پی لیا۔ انہوں نے زہر کو نگلنے کے بجائے اپنے حلق میں روک لیا، جس کی وجہ سے ان کا گلا نیلا پڑ گیا اور اسی وجہ سے انہیں 'نیل کنٹھ' بھی کہا جاتا ہے۔ مہا شیو راتری اس احسان کی یاد میں بھی منائی جاتی ہے کہ شیو نے دنیا کو تباہی سے بچایا۔

شیو کا کائناتی رقص

یہ بھی مانا جاتا ہے کہ اسی رات شیو نے 'تاںڈو' نامی رقص کیا تھا، جو تخلیق، تحفظ اور فنا کا رقص ہے۔ یہ رقص کائنات کی حرکت اور توانائی کے بہاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ یوگیوں اور روحانیت کے متلاشی افراد کے لیے یہ رات اس لیے اہم ہے کیونکہ وہ اسے اپنی انا کو ختم کرنے اور الہیٰ نور میں ضم ہونے کا موقع سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں جشن کا انداز اور روایات

پاکستان میں مہا شیو راتری کا جشن انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اگرچہ ہندو برادری پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے، لیکن اس تہوار کا مرکز سندھ اور پنجاب کے مخصوص علاقے ہوتے ہیں۔

عمر کوٹ شیو مندر کا میلہ

پاکستان میں مہا شیو راتری کی سب سے بڑی تقریب سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں واقع قدیم شیو مندر میں منعقد ہوتی ہے۔ یہ مندر پاکستان کے قدیم ترین اور مقدس ترین ہندو مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
تین روزہ میلہ: یہاں تین دن تک رہنے والا ایک عظیم الشان میلہ لگتا ہے۔ عقیدت مندوں کی آمد: ایک اندازے کے مطابق اس میلے میں تقریباً ڈھائی لاکھ (250,000) سے زائد افراد شرکت کرتے ہیں۔ لوگ نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان سے یہاں آتے ہیں۔ انتظامات: پاکستان ہندو پنچائت اس میلے کے تمام اخراجات برداشت کرتی ہے اور زائرین کے لیے قیام و طعام کا مفت انتظام کیا جاتا ہے۔ یہاں کا ماحول روحانیت اور بھائی چارے کا بہترین نمونہ پیش کرتا ہے۔

کٹاس راج مندر (چکوال)

پنجاب کے ضلع چکوال میں واقع کٹاس راج مندروں کا کمپلیکس بھی مہا شیو راتری کے لیے انتہائی اہم ہے۔ روایات کے مطابق کٹاس راج کا تالاب بھگوان شیو کے آنسوؤں سے بنا تھا جب وہ اپنی اہلیہ ستی کی وفات پر غمزدہ تھے۔ یہاں بھی خصوصی تقریبات منعقد ہوتی ہیں جن میں بھارت سے آنے والے ہندو یاتری بھی اکثر شرکت کرتے ہیں۔

کراچی اور دیگر شہر

کراچی میں کلفٹن کے ساحل پر واقع 'شری رتنیشور مہادیو مندر' میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ یہ مندر ایک غار میں واقع ہے اور سمندر کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں کا منظر انتہائی دلکش ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص اور کوئٹہ کے مندروں میں بھی خصوصی دیپ مالا اور پوجا پاٹھ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

مذہبی رسومات اور عبادات

مہا شیو راتری کے دن عقیدت مند مخصوص مذہبی فرائض سرانجام دیتے ہیں:

  1. روزہ (ورت): زیادہ تر ہندو اس دن مکمل روزہ رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ بغیر پانی کے (نرجلا) روزہ رکھتے ہیں، جبکہ کچھ پھلوں اور دودھ کا استعمال کرتے ہیں۔ روزہ رکھنے کا مقصد اپنے حواس پر قابو پانا اور ذہن کو صرف خدا کی طرف مرکوز کرنا ہے۔
  2. شب بیداری (جاگرن): پوری رات جاگنا اس تہوار کا لازمی حصہ ہے۔ عقیدت مند مندروں میں جمع ہوتے ہیں اور رات بھر بھجن، کیرتن اور منتر پڑھتے ہیں۔
  3. شیو لنگ کی پوجا: مندروں میں 'شیو لنگ' (جو بھگوان شیو کی علامت ہے) کو دودھ، شہد، دہی، گھی اور پانی سے غسل دیا جاتا ہے۔ اسے 'ابھیشیک' کہا جاتا ہے۔
  4. بیل کے پتے (بیل پتر): شیو کی پوجا میں 'بیل' کے درخت کے پتے چڑھانا انتہائی بابرکت مانا جاتا ہے۔ یہ پتے تین حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو شیو کی تین آنکھوں یا تثلیث کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
  5. پنچاکشری منتر: پورے دن اور رات "اوم نمہ شوائے" (Om Namah Shivaya) کا ورد کیا جاتا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ اس منتر کے جاپ سے انسان تمام گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔
  6. چار پہر کی پوجا: رات کو چار حصوں (کال) میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ہر پہر میں مخصوص رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ شام 6 بجے سے صبح 6 بجے تک عبادت کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

پاکستان میں سماجی اور ثقافتی اہمیت

مہا شیو راتری پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک روشن مثال ہے۔ ان تقریبات میں اکثر مسلمان، سکھ اور مسیحی برادری کے نمائندے بھی شرکت کرتے ہیں اور اپنے ہندو بھائیوں کو مبارکباد دیتے ہیں۔ حکومت پاکستان اور مقامی انتظامیہ مندروں کی سیکیورٹی اور زائرین کی سہولت کے لیے خصوصی اقدامات کرتی ہے۔

عمر کوٹ اور دیگر علاقوں میں لگنے والے میلوں میں ثقافتی رنگ بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ مقامی فنکار صوفیانہ کلام اور بھجن پیش کرتے ہیں۔ دکانیں سجائی جاتی ہیں جہاں روایتی مٹھائیاں، مذہبی اشیاء اور دستکاری کے نمونے فروخت کیے جاتے ہیں۔ یہ تہوار مقامی معیشت کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ہزاروں لوگ خریداری کرتے ہیں۔

عملی معلومات اور تجاویز

اگر آپ 2026 میں مہا شیو راتری کی تقریبات میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں، تو درج ذیل معلومات آپ کے کام آ سکتی ہیں:

وقت: سب سے اہم عبادات اتوار 15 فروری کی رات سے شروع ہوں گی اور پیر 16 فروری کی صبح تک جاری رہیں گی۔ مقام: اگر آپ بڑے اجتماع کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو عمر کوٹ شیو مندر بہترین جگہ ہے۔ کراچی میں رہنے والوں کے لیے کلفٹن کا رتنیشور مندر موزوں ہے۔ لباس: مندروں میں جاتے وقت سادہ اور باوقار لباس زیب تن کریں۔ مرد عام طور پر دھوتی یا کرتا پاجامہ اور خواتین ساڑھی یا شلوار قمیض پہنتی ہیں۔ خوراک: تہوار کے دوران مندروں میں 'پرساد' (مقدس کھانا) تقسیم کیا جاتا ہے۔ عمر کوٹ جیسے مقامات پر بڑے پیمانے پر لنگر کا انتظام ہوتا ہے۔ سیکیورٹی: بڑے اجتماعات کی وجہ سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں، لہذا اپنے ساتھ شناختی دستاویزات رکھیں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

کیا یہ عام تعطیل ہے؟

پاکستان میں مہا شیو راتری کے موقع پر ملک گیر 'عوامی تعطیل' (Public Holiday) نہیں ہوتی، تاہم حکومت سندھ اکثر اس موقع پر ہندو برادری کے لیے 'اختیاری چھٹی' (Optional Holiday) کا اعلان کرتی ہے۔

سرکاری دفاتر اور بینک: عام طور پر کھلے رہتے ہیں، لیکن ہندو ملازمین کو مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے رخصت لینے کی اجازت ہوتی ہے۔ تعلیمی ادارے: اسکول اور کالج کھلے رہتے ہیں، سوائے ان علاقوں کے جہاں ہندو آبادی بہت زیادہ ہو اور مقامی طور پر چھٹی کا اعلان کیا گیا ہو۔ کاروبار: بازار اور دکانیں معمول کے مطابق کھلی رہتی ہیں، البتہ ہندوؤں کی ملکیت والی دکانیں جشن کی وجہ سے بند ہو سکتی ہیں۔

سندھ کے مخصوص اضلاع جیسے عمر کوٹ، تھرپارکر اور میرپورخاص میں اس دن عام تعطیل جیسا ماحول ہوتا ہے کیونکہ وہاں کی ایک بڑی آبادی اس تہوار کو منا رہی ہوتی ہے۔

نتیجہ

مہا شیو راتری پاکستان کی متنوع ثقافت کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنی روایات کو آزادی اور جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ فروری 2026 میں آنے والا یہ تہوار جہاں ہندو برادری کے لیے روحانی بالیدگی کا باعث ہوگا، وہی یہ ملک میں امن، محبت اور بھائی چارے کے پیغام کو بھی عام کرے گا۔ چاہے وہ عمر کوٹ کے ریگستانوں میں گونجنے والے شنکھ کی آواز ہو یا کٹاس راج کے ٹھنڈے پانیوں کے کنارے جلتے چراغ، مہا شیو راتری کی ہر ادا میں ایک گہرا فلسفہ اور عقیدت چھپی ہے۔

Frequently Asked Questions

Common questions about Shivaratri in Pakistan

پاکستان میں مہا شیوراتری کا تہوار February 15, 2026 کو منایا جائے گا، جس دن Sunday ہے۔ اس اہم مذہبی تقریب میں اب صرف 43 باقی ہیں۔ یہ تہوار ہندو کیلنڈر کے مطابق فالگن کے مہینے میں چودھویں رات کو منایا جاتا ہے، جو کہ بھگوان شیو کی تعظیم کا خاص دن ہے۔

نہیں، شیوراتری پاکستان میں سرکاری سطح پر عام تعطیل نہیں ہے، تاہم ہندو برادری کے لیے یہ ایک بہت بڑا مذہبی تہوار ہے۔ پاکستان کے مختلف صوبوں، خاص طور پر سندھ میں، ہندو سرکاری ملازمین کو اس موقع پر خصوصی رخصت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی مذہبی رسومات سکون سے ادا کر سکیں۔ نجی اداروں میں بھی ہندو برادری کے افراد اس دن چھٹی لیتے ہیں۔

مہا شیوراتری کا مطلب ہے 'شیو کی عظیم رات'۔ یہ ہندو مت کے اہم ترین تہواروں میں سے ایک ہے جو بھگوان شیو اور دیوی پاروتی کی شادی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس رات کو شیو کے کائناتی رقص 'تھانڈوا' سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ دن برائی پر اچھائی کی جیت اور جہالت کے اندھیروں کو ختم کرنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں مہا شیوراتری کی سب سے بڑی اور مشہور تقریب عمرکوٹ کے قدیم شیو مندر میں منعقد ہوتی ہے۔ اس تین روزہ میلے میں ملک بھر سے تقریباً دو لاکھ پچاس ہزار (250,000) سے زائد زائرین شرکت کرتے ہیں۔ پاکستان ہندو پنچایت اس تقریب کے تمام اخراجات اور انتظامات کی ذمہ داری سنبھالتی ہے، جس سے یہاں کے مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کی عکاسی ہوتی ہے۔

اس دن عقیدت مند سارا دن روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر جاگ کر عبادت کرتے ہیں۔ مندروں میں 'اوم نمہ شوائے' کا ورد کیا جاتا ہے۔ خصوصی پوجا کے دوران شیو لنگ پر دودھ، شہد اور پانی چڑھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بیل کے پتے (بیل پتر)، پھول اور بخور بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ رات کی عبادت کو چار حصوں (کالاس) میں تقسیم کیا جاتا ہے جو شام 6 بجے سے صبح 6 بجے تک جاری رہتی ہے۔

سال 2026 میں عبادت کا سب سے اہم اور مقدس وقت، جسے نشیتہ کال کہا جاتا ہے، 16 فروری کی رات 12:21 سے 01:11 بجے تک ہوگا۔ یہ تقریباً 51 منٹ کا دورانیہ روحانی طور پر انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور عقیدت مند اس مخصوص وقت میں اپنی دعاؤں اور مراقبہ پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔

جی ہاں، مذہبی رسومات کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر ثقافتی تقریبات اور رقص کے میلے بھی منعقد ہوتے ہیں۔ چونکہ بھگوان شیو کو رقص کا دیوتا بھی مانا جاتا ہے، اس لیے ان کی یاد میں روایتی رقص پیش کیے جاتے ہیں۔ عمرکوٹ جیسے علاقوں میں میلے کا سماں ہوتا ہے جہاں لوگ سماجی طور پر ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور خوشیاں بانٹتے ہیں۔

اگر آپ عمرکوٹ یا دیگر مندروں میں شیوراتری کی تقریبات دیکھنا چاہتے ہیں تو مشورہ ہے کہ ہجوم کی وجہ سے وقت سے پہلے پہنچیں۔ مذہبی مقامات کے احترام کا خیال رکھیں اور مناسب لباس پہنیں۔ مندروں کے اندر فوٹو گرافی سے پہلے انتظامیہ سے اجازت ضرور لیں۔ یہ پاکستان کی ہندو برادری کی مہمان نوازی اور ان کی قدیم روایات کو قریب سے دیکھنے کا ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔

Historical Dates

Shivaratri dates in Pakistan from 2010 to 2025

Year Day of Week Date
2025 Wednesday February 26, 2025
2024 Friday March 8, 2024
2023 Saturday February 18, 2023
2022 Tuesday March 1, 2022
2021 Thursday March 11, 2021
2020 Friday February 21, 2020
2019 Monday March 4, 2019
2018 Tuesday February 13, 2018
2017 Friday February 24, 2017
2016 Monday March 7, 2016
2015 Tuesday February 17, 2015
2014 Thursday February 27, 2014
2013 Sunday March 10, 2013
2012 Monday February 20, 2012
2011 Wednesday March 2, 2011
2010 Tuesday February 23, 2010

Note: Holiday dates may vary. Some holidays follow lunar calendars or have different observance dates. Purple indicates weekends.