Ridván

Pakistan • April 21, 2026 • Tuesday

108
Days
15
Hours
28
Mins
19
Secs
until Ridván
Asia/Karachi timezone

Holiday Details

Holiday Name
Ridván
Country
Pakistan
Date
April 21, 2026
Day of Week
Tuesday
Status
108 days away
About this Holiday
Ridván is a optional holiday in Pakistan

About Ridván

Also known as: رضوان

عیدِ رضوان: پاکستان میں بہائی عقیدے کا سب سے مقدس تہوار

عیدِ رضوان، جسے "عیدِ اعظم" یا "تہواروں کا بادشاہ" بھی کہا جاتا ہے، بہائی مذہب کا سب سے اہم اور بابرکت ترین تہوار ہے۔ یہ بارہ دنوں پر محیط ایک ایسی روحانی تقریب ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے بہائیوں کے لیے خوشی، اتحاد اور تجدیدِ عہد کا پیغام لاتی ہے۔ یہ دن اس عظیم الشان اعلان کی یادگار ہے جب بہائی مذہب کے بانی، حضرت بہاء اللہ نے بغداد کے قریب "باغِ رضوان" میں اپنے مشن اور خدا کے مظہر ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔ پاکستان میں، جہاں متنوع مذہبی برادریاں آباد ہیں، بہائی کمیونٹی اس تہوار کو انتہائی عقیدت اور جوش و خروش سے مناتی ہے۔

رضوان کا لغوی معنی "جنت" ہے، اور یہ نام اس باغ کی نسبت سے رکھا گیا ہے جہاں حضرت بہاء اللہ نے سن 1863 میں بارہ دن قیام فرمایا تھا۔ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں ہے بلکہ بہائی تعلیمات کے مطابق یہ انسانیت کے لیے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ اس دور میں اتحادِ عالم، امنِ عالم اور تمام مذاہب کی بنیادی سچائی کے ایک ہونے کا پیغام دیا گیا۔ پاکستان کی بہائی برادری کے لیے یہ بارہ دن روحانی بالیدگی، باہمی محبت اور انسانیت کی خدمت کے عزم کو تازہ کرنے کا وقت ہوتے ہیں۔

پاکستان میں بہائی برادری کی ایک طویل تاریخ ہے اور وہ ملک کی سماجی و تعلیمی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں۔ عیدِ رضوان کے دوران، ملک بھر کے مختلف شہروں جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور میں موجود بہائی مراکز (محفلِ روحانی) اور گھروں میں خصوصی دعائیہ تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ تہوار کسی مخصوص فرقے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا پیغام آفاقی ہے، جو ہر انسان کو امن اور بھائی چارے کی دعوت دیتا ہے۔

عیدِ رضوان 2026 میں کب ہے؟

پاکستان میں اور عالمی سطح پر عیدِ رضوان کی تاریخیں ہر سال متعین ہوتی ہیں۔ سال 2026 کے لیے درج ذیل معلومات انتہائی اہم ہیں:

عیدِ رضوان کا پہلا دن: April 21, 2026 ہفتے کا دن: Tuesday باقی ماندہ دن: اس مقدس تہوار کے آغاز میں اب صرف 108 دن باقی ہیں۔

عیدِ رضوان کا دورانیہ کل 12 دنوں پر مشتمل ہے، جو 21 اپریل سے شروع ہو کر 2 مئی تک جاری رہتا ہے۔ اگرچہ یہ پورا عرصہ ہی مقدس سمجھا جاتا ہے، لیکن ان بارہ دنوں میں سے تین دن یعنی پہلا دن (21 اپریل)، نواں دن (29 اپریل) اور بارہواں دن (2 مئی) خاص طور پر اہمیت کے حامل ہیں اور ان ایام میں بہائی پیروکار کام کاج اور تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دیتے ہیں۔

یہ تاریخ شمسی کیلنڈر کے مطابق طے کی جاتی ہے، اس لیے یہ ہر سال انہی تاریخوں پر آتی ہے، تاہم بہائی تقویم (بدیع کیلنڈر) کے مطابق دن کا آغاز غروبِ آفتاب سے ہوتا ہے۔ چنانچہ عیدِ رضوان کا جشن بھی مقررہ تاریخ سے ایک شام قبل یعنی 20 اپریل کے غروبِ آفتاب سے شروع ہو جاتا ہے۔

تاریخی پس منظر اور مذہبی اہمیت

عیدِ رضوان کی جڑیں 19ویں صدی کے وسط میں پیوست ہیں۔ سن 1863 میں، جب سلطنتِ عثمانیہ کے حکام نے حضرت بہاء اللہ کو بغداد سے قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) جلاوطن کرنے کا حکم دیا، تو آپ نے شہر چھوڑنے سے پہلے دریائے دجلہ کے کنارے واقع ایک باغ میں بارہ دن قیام کیا۔ اس باغ کو بعد میں "باغِ رضوان" کے نام سے شہرت ملی۔

پہلا دن (21 اپریل): اس دن حضرت بہاء اللہ باغ میں داخل ہوئے اور دوپہر کے وقت اپنے چند قریبی پیروکاروں کے سامنے پہلی بار یہ انکشاف کیا کہ وہ وہی "موعود" (جس کا وعدہ کیا گیا تھا) ہیں جن کی پیش گوئی باب شیرازی نے کی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خدا کے ایک نئے پیغامبر ہیں جن کا مقصد دنیا کو متحد کرنا ہے۔ یہ لمحہ بہائی تاریخ میں ایک عظیم انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔

نواں دن (29 اپریل): جلاوطنی کے اس سفر میں حضرت بہاء اللہ کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ شامل ہونے والے تھے۔ نویں دن ان کا خاندان بھی باغِ رضوان پہنچ گیا، جس سے اس جشن کی خوشی دوبالا ہو گئی۔ یہ دن خاندان کی اہمیت اور اتحاد کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔

بارہواں دن (2 مئی): بارہویں دن حضرت بہاء اللہ اور ان کے ساتھیوں نے باغِ رضوان سے قسطنطنیہ کی طرف اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اگرچہ یہ بظاہر ایک جلاوطنی کا سفر تھا، لیکن بہائی اسے ایک فاتحانہ پیش قدمی کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ اسی سفر کے دوران بہائی پیغام دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچنا شروع ہوا۔

پاکستان میں جشنِ رضوان: روایات اور طریقہ کار

پاکستان میں بہائی برادری عیدِ رضوان کو نہایت سادگی مگر وقار کے ساتھ مناتی ہے۔ یہاں دیگر تہواروں کی طرح بڑے عوامی جلوس یا میلے نہیں لگتے، بلکہ توجہ روحانیت اور کمیونٹی کے اتحاد پر مرکوز رہتی ہے۔

1. دعائیہ اجتماعات اور ذکر و فکر

رضوان کے پہلے، نویں اور بارہویں دن، پاکستانی بہائی اپنے مقامی مراکز یا دوستوں کے گھروں میں جمع ہوتے ہیں۔ ان تقریبات کا آغاز تلاوتِ کلامِ الہٰی سے ہوتا ہے۔ بہائی کتبِ مقدسہ، خاص طور پر "کتابِ اقدس" سے اقتباسات پڑھے جاتے ہیں۔ ان دعائیہ محفلوں میں امنِ عالم، پاکستان کی سلامتی اور انسانیت کی فلاح کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

2. انتخابات اور انتظامی ڈھانچہ

عیدِ رضوان کا پہلا دن بہائی انتظامی نظام کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ اسی دن دنیا بھر میں، بشمول پاکستان، مقامی روحانی محفلوں (Local Spiritual Assemblies) کے انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔ یہ ایک منفرد جمہوری عمل ہے جس میں کوئی نامزدگی یا انتخابی مہم نہیں ہوتی، بلکہ برادری کے ارکان خفیہ رائے دہی کے ذریعے ان افراد کا انتخاب کرتے ہیں جو اگلے ایک سال تک کمیونٹی کے معاملات چلائیں گے۔

3. سماجی میل جول اور ضیافتیں

دعائیہ تقریبات کے بعد سماجی میل جول کا آغاز ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور مشترکہ ظہرانے یا عشائیے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بہائی خاندان اپنے غیر بہائی دوستوں اور پڑوسیوں کو بھی ان تقریبات میں مدعو کرتے ہیں تاکہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ کھانوں میں عام طور پر روایتی پاکستانی پکوان جیسے بریانی، قورمہ اور میٹھے میں کھیر یا زردہ شامل ہوتا ہے، جو خوشی کے مواقع کی زینت بنتے ہیں۔

4. بچوں اور نوجوانوں کی سرگرمیاں

بچوں کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں جن میں انہیں باغِ رضوان کے واقعات کہانیوں کی صورت میں سنائے جاتے ہیں۔ نوجوان ملی نغمے اور روحانی گیت (Bahá'í songs) پیش کرتے ہیں، جو اکثر اردو اور علاقائی زبانوں میں ہوتے ہیں۔

پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں اور سیاحوں کے لیے معلومات

اگر آپ 2026 میں عیدِ رضوان کے دوران پاکستان میں موجود ہیں اور اس تہوار کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں، تو درج ذیل باتیں آپ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:

لباس اور آداب: بہائی تقریبات میں لباس کے حوالے سے کوئی مخصوص پابندی نہیں ہے، تاہم پاکستانی معاشرت کے مطابق سادہ اور باوقار لباس (جیسے شلوار قمیض) کو ترجیح دی جاتی ہے۔ خواتین کو عموماً سر ڈھانپنے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن مذہبی احترام کے پیشِ نظر شال یا دوپٹہ ساتھ رکھنا بہتر ہے۔ شرکت کا طریقہ: بہائی مراکز عام طور پر تمام لوگوں کے لیے کھلے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی تقریب میں شرکت کرنا چاہتے ہیں، تو بہتر ہے کہ مقامی بہائی برادری سے پہلے رابطہ کر لیں۔ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں ان کے مراکز آسانی سے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ تبلیغ سے گریز: بہائی تقریبات کا مقصد اتحاد اور دعا ہوتا ہے، وہاں کسی قسم کی بحث یا زبردستی تبلیغ کا عنصر نہیں پایا جاتا۔ زائرین سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ خاموشی اور احترام کے ساتھ تقریب کا حصہ بنیں۔

  • موسم کی صورتحال: اپریل اور مئی کے مہینوں میں پاکستان میں گرمی کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے۔ درجہ حرارت 30 سے 40 ڈگری سیلسیس تک جا سکتا ہے، اس لیے زیادہ تر تقریبات انڈور (کمروں کے اندر) منعقد کی جاتی ہیں جہاں پنکھوں یا اے سی کا انتظام ہوتا ہے۔

کیا عیدِ رضوان پاکستان میں عام تعطیل ہے؟

پاکستان میں عیدِ رضوان سرکاری سطح پر "قومی تعطیل" (National Public Holiday) نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تمام سرکاری دفاتر، بینک، اسکول اور کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہتے ہیں۔

تاہم، بہائی برادری کے لیے یہ ایام انتہائی مقدس ہیں:

  1. پہلا، نواں اور بارہواں دن: ان تین مخصوص دنوں پر بہائی پیروکار کام، تجارت اور تعلیمی اداروں سے چھٹی کرتے ہیں۔
  2. بہائی ادارے: پاکستان میں موجود بہائی کمیونٹی کے اپنے دفاتر اور تعلیمی مراکز ان تین دنوں میں مکمل طور پر بند رہتے ہیں۔
  3. نجی شعبہ: وہ بہائی جو نجی کمپنیوں یا سرکاری ملازمتوں میں ہیں، وہ عام طور پر ان ایام کے لیے اپنی سالانہ چھٹیوں میں سے رخصت لیتے ہیں۔
حکومتِ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرتی ہے، اس لیے بہائی طلباء اور ملازمین کو ان کے مقدس ایام پر چھٹی لینے میں عموماً کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔

عیدِ رضوان کا پیغام اور پاکستانی معاشرہ

پاکستان جیسے کثیر المذہبی ملک میں عیدِ رضوان کا پیغام "وحدتِ انسانی" کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ تہوار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اختلافات کے باوجود انسانیت کی بنیاد ایک ہی ہے۔ بہائی برادری اس موقع پر اپنے ہم وطنوں کے لیے دعا کرتی ہے کہ ملک میں امن، خوشحالی اور رواداری کا دور دورہ ہو۔

عیدِ رضوان محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ یہ ایک عہد ہے کہ ہم نفرتوں کو ختم کر کے محبت کے باغ تعمیر کریں گے۔ پاکستان کے بہائی اس دن کو اپنی شناخت اور ملک کے ساتھ اپنی وابستگی کے اظہار کے طور پر بھی مناتے ہیں، اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ ملک کی خدمت میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔

خلاصہ کلام یہ کہ April 21, 2026 کو شروع ہونے والی یہ عید پاکستان کی بہائی برادری کے لیے روحانی مسرت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک چھوٹی کمیونٹی ہے، لیکن ان کے اس "عظیم ترین تہوار" کی گونج ان کی تعلیمات اور ان کے کردار میں صاف نظر آتی ہے، جو امن اور بھائی چارے کے طالب ہیں۔

Frequently Asked Questions

Common questions about Ridván in Pakistan

پاکستان میں عیدِ رضوان کا آغاز April 21, 2026 بروز Tuesday کو ہوگا۔ آج سے اس مقدس تہوار کے آغاز میں ٹھیک 108 دن باقی ہیں۔ یہ بارہ روزہ جشن 21 اپریل سے شروع ہو کر 2 مئی 2026 تک جاری رہتا ہے، جس میں پہلا، نواں اور بارہواں دن خاص طور پر مقدس مانے جاتے ہیں۔

نہیں، عیدِ رضوان پاکستان میں قومی سطح پر عام تعطیل نہیں ہے۔ سرکاری دفاتر، اسکول اور کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہتے ہیں۔ تاہم، بہائی عقیدے کے پیروکار اس تہوار کے تین اہم ایام (پہلے، نویں اور بارہویں دن) پر اپنی مذہبی روایات کے مطابق کام اور تعلیمی سرگرمیوں سے رخصت لیتے ہیں۔ بہائی ادارے ان ایام میں بند رہتے ہیں۔

عیدِ رضوان بہائی مذہب کا سب سے بڑا اور مقدس ترین تہوار ہے، جسے 'عیدِ اعظم' بھی کہا جاتا ہے۔ یہ 1863 میں بغداد کے قریب باغِ رضوان میں بہاء اللہ کے اس اعلان کی یاد میں منایا جاتا ہے کہ وہ خدا کے مظہر ہیں۔ یہ بارہ دن بہاء اللہ کے قیام، ان کے مشن کے اظہار اور وہاں سے قسطنطنیہ کی طرف ہجرت کی علامت ہیں، جو بہائی تاریخ میں ایک نئے روحانی دور کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں بہائی برادری کے لوگ مقامی مراکز یا گھروں میں جمع ہو کر دعائیں مانگتے ہیں اور اپنی مقدس کتابوں، بالخصوص کتابِ اقدس کی تلاوت کرتے ہیں۔ ان تقریبات میں اتحاد، روحانی تجدید اور برادری کے بھائی چارے پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ اجتماعات خوشی اور مسرت سے بھرپور ہوتے ہیں جن میں موسیقی، ضیافت اور عقیدے سے متعلق گفتگو شامل ہوتی ہے، لیکن ان میں کوئی مخصوص ماتمی یا پریڈ جیسی سرگرمیاں نہیں ہوتیں۔

عیدِ رضوان کے دوران روزے رکھنا یا کوئی لازمی پیچیدہ رسومات ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس جشن کا بنیادی مقصد خوشی منانا اور روحانی طور پر خود کو تازہ دم کرنا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس تہوار کے تین مخصوص ایام میں کام کاج ترک کر دیا جاتا ہے تاکہ مکمل توجہ عبادت اور سماجی میل جول پر مرکوز کی جا سکے۔ لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور بہاء اللہ کی تعلیمات پر غور و فکر کرتے ہیں۔

اگرچہ پورا جشن بارہ دنوں پر محیط ہے، لیکن تین دن سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ پہلا دن (21 اپریل) بہاء اللہ کے باغ میں داخلے اور اعلانِ رسالت کی یاد میں، نواں دن (29 اپریل) جب ان کے اہل خانہ نے انہیں باغ میں جوائن کیا، اور بارہواں دن (2 مئی) جب انہوں نے باغ سے اپنا سفرِ ہجرت شروع کیا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان تینوں دنوں کو چھٹی کے طور پر منایا جاتا ہے۔

غیر بہائی افراد یا سیاح جو پاکستان میں بہائی مراکز کی تقریبات میں شرکت کرنا چاہیں، ان کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ زائرین کو چاہیے کہ وہ سادہ اور باوقار لباس پہنیں اور دعائیہ تقاریب کے دوران خاموشی اور احترام برقرار رکھیں۔ بہائی تقریبات میں تمام مذاہب کے درمیان اتحاد پر زور دیا جاتا ہے، لہٰذا وہاں بحث و مباحثہ یا تبلیغ سے گریز کرنا چاہیے۔ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں مقامی بہائی اسمبلیوں سے رابطہ کر کے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

اپریل کے آخر اور مئی کے شروع میں پاکستان کے بیشتر شہروں میں موسم کافی گرم (30 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ) ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے زیادہ تر مذہبی اجتماعات اور ضیافتیں انڈور یا شام کے وقت منعقد کی جاتی ہیں۔ لباس کے حوالے سے کوئی مخصوص ضابطہ نہیں ہے، تاہم پاکستانی ثقافت کے مطابق شائستہ اور مکمل لباس پہننا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ تقریبات میں عام طور پر مقامی کھانے اور مشروبات پیش کیے جاتے ہیں۔

Historical Dates

Ridván dates in Pakistan from 2010 to 2025

Year Day of Week Date
2025 Monday April 21, 2025
2024 Sunday April 21, 2024
2023 Friday April 21, 2023
2022 Thursday April 21, 2022
2021 Wednesday April 21, 2021
2020 Monday April 20, 2020
2019 Sunday April 21, 2019
2018 Saturday April 21, 2018
2017 Friday April 21, 2017
2016 Thursday April 21, 2016
2015 Tuesday April 21, 2015
2014 Monday April 21, 2014
2013 Sunday April 21, 2013
2012 Saturday April 21, 2012
2011 Thursday April 21, 2011
2010 Wednesday April 21, 2010

Note: Holiday dates may vary. Some holidays follow lunar calendars or have different observance dates. Purple indicates weekends.

About Pakistan

Country Code
PK
Continent
Asia
Total Holidays
20